اسلام آباد پر دہشت گردی کا حملہ، کابل نے جنگ ہمارے دروازے پر لا کھڑی کی: خواجہ آصف

اسلام آباد — وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سرحد پار سے آنے والی دہشت گردی پر خاموش نہیں رہے گا اور اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد منہ توڑ جواب دیا جائے گا، جس میں 12 افراد جاں بحق اور 30 زخمی ہوئے۔

وزیر دفاع نے افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے پاکستان میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکامی دکھائی ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا،
“ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ صرف سرحدی علاقوں یا بلوچستان کے دور دراز خطوں تک محدود ہے، اسلام آباد کا خودکش دھماکا اُن کے لیے ایک انتباہ ہے۔”

وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق دھماکا دوپہر 12 بج کر 39 منٹ پر ہوا، جب حملہ آور ضلع و سیشن کورٹ میں داخل نہ ہو سکا تو اُس نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر قوم کو تحفظ فراہم کر رہی ہیں، مگر دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ “ہر پاکستانی کی جنگ” ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ حالات میں افغان حکومت کے ساتھ کسی کامیاب مذاکرات کی امید رکھنا “بے کار” ہے۔

“کابل کی قیادت دہشت گردی کو روک سکتی ہے، مگر اسلام آباد میں یہ حملہ دراصل ایک پیغام ہے — کہ جنگ اب ہمارے دروازے تک پہنچ گئی ہے،” آصف نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کو اس حملے کی توقع تھی کیونکہ دہشت گرد “دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی” کے طور پر ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔ “انہوں نے ہمیں پیغام دیا ہے کہ ملک کا کوئی علاقہ اُن کی پہنچ سے دور نہیں، لیکن پاکستان کسی صورت دہشت گردی برداشت نہیں کرے گا، چاہے وہ سرحدی علاقے ہوں یا شہری مراکز۔”

یہ حملہ اسلام آباد میں تین سال بعد ہونے والا پہلا خودکش دھماکا ہے — آخری حملہ دسمبر 2022 میں ہوا تھا۔ تاہم، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اُس وقت سے مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے جب سے طالبان نے 2021 میں کابل پر قبضہ کیا۔

گزشتہ ماہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر جھڑپوں کے دوران 200 سے زائد طالبان اور بھارت نواز جنگجو ہلاک ہوئے تھے۔ اگرچہ بعد میں دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا، لیکن تفصیلی معاہدہ مذاکرات کے دوران ناکام ہوگیا۔

اسلام آباد نے ایک بار پھر کابل حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان مخالف دہشت گرد گروہوں کے لیے پناہ گاہ یا تربیتی مرکز نہ بننے دے، بصورت دیگر دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

More From Author

نقدی کے بغیر معیشت کا منصوبہ سست روی کا شکار، صرف سات لاکھ دکاندار ڈیجیٹل نظام سے منسلک

کریسٹیانو رونالڈو نے تصدیق کر دی: فیفا ورلڈ کپ 2026 ان کے کیریئر کا آخری ٹورنامنٹ ہوگا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے