قطر سے ایل این جی کی ترسیل مؤخر کرنے پر پاکستان کی کوششیں، طلب میں کمی بڑی وجہ

اسلام آباد (26 اگست 2025): پاکستان نے قطر سے درآمد کی جانے والی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ بجلی گھروں اور صنعتی شعبے کی جانب سے طلب میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی قیادت میں ایک وفد جلد دوحہ روانہ ہوگا، جہاں قطری حکام سے باضابطہ طور پر ایل این جی کارگوز کی ترسیل مؤخر کرنے کی درخواست کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان 177 کارگوز کو پانچ سال کے لیے مؤخر کرنے کی تجویز پیش کرے گا، جس کے نتیجے میں ایک طویل مدتی معاہدہ بھی ختم ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جنوری 2026 سے دو ایل این جی کارگوز عالمی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس فیصلے پر حتمی فیصلہ قطر کی جانب سے کیا جائے گا، جو اس مؤخر کرنے کی تجویز کا جائزہ لے گا۔ اس دوران پاکستان مقامی سطح پر گیس کی پیداوار میں کمی کا بھی سامنا کر رہا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

انرجی ماہرین کے مطابق بجلی کا شعبہ اس وقت اپنی مختص کردہ کوٹے سے تقریباً 300 ایم ایم سی ایف ڈی کم گیس استعمال کر رہا ہے، جبکہ برآمدی صنعتوں کی کھپت بھی مقررہ حد سے کم ہے۔ اس کمی کے باعث سسٹم میں گیس کا اضافی دباؤ (لائن پیک) پیدا ہو گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام دراصل مالی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہے، کیونکہ توانائی کے شعبے میں ادائیگیوں اور کھپت کے غیر یقینی رجحانات نے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے

More From Author

 کراچی میں آن لائن منشیات کی ترسیل کا نیٹ ورک بے نقاب، دو ملزمان گرفتار

حزب اللہ کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، اسرائیلی جارحیت ختم کرنے کا مطالبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے