لاہور: لاہور کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) نے جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے بھانجے اور علیمہ خان کے صاحبزادے شیرشاہ کو 9 مئی کے فسادات کیس میں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
شیرشاہ کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران پولیس نے مزید 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی اور دعویٰ کیا کہ ویڈیو شواہد میں شیرشاہ کو اپنے کزن حسن نیازی کے ہمراہ پرتشدد مظاہروں کے دوران موجود دیکھا جا سکتا ہے۔
9 مئی 2023 کو عمران خان کی کرپشن کیس میں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران فوجی اور سرکاری تنصیبات پر حملے ہوئے جبکہ لاہور کا جناح ہاؤس واقعہ ان واقعات میں سب سے نمایاں مانا جاتا ہے۔
سماعت کے دوران شیرشاہ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ویڈیو میں نظر آنا جرم کے ثبوت کے مترادف نہیں ہو سکتا۔ اُنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ “محض موجودگی کو آتشزدگی یا توڑ پھوڑ میں شمولیت نہیں کہا جا سکتا۔”
جج منظر علی گل نے دلائل سننے کے بعد پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی اور شیرشاہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ شیرشاہ کو 22 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا، اُن کے ایک روز قبل کزن شاہریز خان کو بھی جناح ہاؤس کیس میں حراست میں لیا گیا تھا۔ دونوں پر الزام ہے کہ وہ “ریاست مخالف مہم” چلانے اور 9 مئی کے پرتشدد واقعات میں براہِ راست ملوث تھے۔
تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شیرشاہ نے جناح ہاؤس پر حملے میں فعال کردار ادا کیا، اس پر پولیس وین کو آگ لگانے، توڑ پھوڑ کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست مخالف مواد پھیلانے جیسے سنگین الزامات ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ فسادات کے بعد بیرونِ ملک فرار ہو گیا اور تقریباً دو برس لندن میں قیام کے بعد واپس پاکستان آیا۔
عدالت کا یہ فیصلہ 9 مئی کے مقدمات کی کارروائیوں میں ایک اور اہم پیش رفت ہے، جو اب بھی پاکستان کی سیاسی صورتحال کے حساس ترین باب کے طور پر زیرِ بحث ہیں۔