فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت — امریکا کی پاکستان پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ

اسلام آباد —
پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بڑھتی ہوئی عالمی سرگرمیاں اس بات کا مظہر ہیں کہ واشنگٹن اپنی جنوبی ایشیا کی حکمتِ عملی میں ایک نئی سمت اختیار کر رہا ہے — اور یہ تبدیلی نئی دہلی کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں۔

برطانوی جریدے "دی اکنامسٹ” کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد جس پاکستان کو برسوں تک سفارتی طور پر نظرانداز کیا گیا، وہی ملک اب ایک بار پھر واشنگٹن کی ترجیحات میں شامل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فیلڈ مارشل منیر نے 18 جون کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں نجی ملاقات کی، جس کے بعد سے پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت، انسداد دہشت گردی اور مشرقِ وسطیٰ کے امور پر بات چیت میں تیزی آئی ہے۔

بھارت کے لیے پریشان کن لمحہ؟
یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت مغرب سے قریبی تعلقات کے نشے میں مست تھا۔ لیکن جولائی کے اختتام پر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو "ڈیڈ اکانومی” قرار دیتے ہوئے اس پر 25 فیصد ٹیکس عائد کیا اور ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کو سراہا — جسے مبصرین نے نئی دہلی کے لیے واضح پیغام قرار دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکا پاکستان کو ایک بار پھر اہم شراکت دار کے طور پر دیکھ رہا ہے — خاص طور پر انسداد دہشت گردی کی صلاحیت اور مسلم دنیا میں اثر و رسوخ کے تناظر میں۔ یہ اشارے بھی دیے گئے ہیں کہ امریکا دوبارہ پاکستان کو ہتھیار فروخت کر سکتا ہے، حالانکہ اس وقت پاکستان اپنے اسلحے کا تقریباً 80 فیصد چین سے حاصل کرتا ہے۔

داخلی طاقت اور قیاس آرائیاں
ملک کے اندر بھی فیلڈ مارشل منیر کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد۔ جبکہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی حکومت کی موجودگی میں یہ قیاس زور پکڑ رہا ہے کہ شاید وہ مستقبل میں صدارتی عہدہ سنبھالیں — جیسا کہ پاکستان کی ماضی کی فوجی حکومتوں میں دیکھا گیا۔

تاہم آئی ایس پی آر کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے "لغو بات” قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کا سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی وہ اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں زیادہ نظریاتی سوچ رکھتے ہیں۔

عاصم منیر کا پس منظر انوکھا ہے — ایک امام کے بیٹے، مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے اور حافظِ قرآن۔ وہ نہ امریکا میں تربیت یافتہ ہیں اور نہ برطانیہ میں، لیکن ترجمان کے مطابق وہ مغرب کے امور سے پوری طرح واقف ہیں اور پاکستان میں سرگرم جہادی تنظیموں کے سخت مخالف ہیں۔

بھارت، مشرقِ وسطیٰ اور اسٹریٹجک برداشت
جنرل چوہدری کے مطابق، فیلڈ مارشل منیر کے بھارت سے متعلق خیالات کا اظہار اُن کی 16 اپریل کی تقریر میں ہوا، جو کشمیر کے پاہلگام حملے سے چند دن قبل کی گئی تھی۔ اگرچہ پاکستان اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے، لیکن یہ تقریر اُن کے اصولی مؤقف اور ’ریڈ لائنز‘ کی وضاحت سمجھی جا رہی ہے — خصوصاً بھارت میں بڑھتی ہوئی ہندو قوم پرستی کے تناظر میں۔

فیلڈ مارشل کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ ایک ایسے شخص ہیں جو عبادات کے پابند تو ہیں، مگر پالیسی سازی میں مذہب کو شامل نہیں کرتے۔ وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جدید اصلاحات سے متاثر ہیں اور بھارت سے متعلق معاملات میں نسبتاً زیادہ جرات مندانہ مؤقف رکھتے ہیں۔

ان کے کچھ ناقدین نے مئی میں اُن کی فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی کو ایوب خان سے تشبیہ دی ہے، جو پاکستان کے پہلے آمر تھے جنہیں یہ رینک ملا۔ لیکن حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ "ہائبرڈ نظام” فیلڈ مارشل منیر کے لیے نہایت موزوں ہے۔ صرف 57 برس کی عمر میں وہ جنرل پرویز مشرف کے بعد سب سے بااثر فوجی سربراہ سمجھے جا رہے ہیں، اور موجودہ حالات میں وہ طویل عرصے تک اپنی پوزیشن پر براجمان رہ سکتے ہیں۔

واشنگٹن سے تعلقات کی بحالی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقے پاکستان میں کرپٹو کرنسی اور معدنیات کے شعبوں میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ فیلڈ مارشل منیر نے داعش سے وابستہ مقامی گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر کے امریکا کی توجہ حاصل کی ہے۔

جواباً امریکا نے پاکستان کے میزائل پروگرام پر اپنے اعتراضات میں نرمی کی ہے، کچھ امدادی پروگرام بحال کیے ہیں، اور پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اسلحہ فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے — جن میں نائٹ وژن آلات اور بکتر بند گاڑیاں شامل ہیں۔

امریکی حکام پاکستان کی انٹیلیجنس رپورٹس کا بھی جائزہ لے رہے ہیں جن میں بھارت پر پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا ہے، اگرچہ واشنگٹن میں ان رپورٹس پر مکمل یقین نہیں کیا جا رہا۔

رسّی پر چلنا
فیلڈ مارشل منیر کی خواہش یہ لگتی ہے کہ امریکا کے ساتھ ایک متوازن اور دیرپا تعلق قائم کیا جائے — جو صرف سیکیورٹی یا لین دین تک محدود نہ ہو۔ تاہم یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

پاکستان کی غیر مستحکم سرمایہ کاری کا ماحول، تاریخی عدم اعتماد، اور چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک قربت — یہ سب عوامل اس راستے میں رکاوٹ ہیں۔ اسلام آباد کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی چین کے مفادات کے خلاف نہیں ہوگی، لیکن چین اس دعوے کو کس نظر سے دیکھتا ہے، یہ ایک الگ سوال ہے۔ بھارت کے ساتھ محاذ آرائی بھی بدستور موجود ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی واضح کر چکے ہیں کہ اگر آئندہ کوئی حملہ ہوا تو بھارت سخت جواب دے گا۔ اس پر پاکستانی فوجی ترجمان کا دوٹوک جواب تھا: “ہم مشرق سے آغاز کریں گے۔ اُنہیں بھی سمجھنا ہوگا کہ اُنہیں ہر جگہ سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے

More From Author

 اسلام آباد نے یوکرینی صدر کے پاکستانی شہریوں کی جنگ میں ملوث ہونے کے الزام کو "بے بنیاد” قرار دے دیا

 برسلز میں پاکستانی سفارتخانے میں یومِ استحصال کی تقریب، کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے