روس نے پاکستان کو "قدرتی اتحادی” اور خطے کی ترقی میں ایک اہم شراکت دار قرار دے کر دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا واضح اشارہ دیا ہے۔ یہ بیان روس کے نائب وزیراعظم الیگزی اوورچک نے جمعرات کے روز ماسکو میں وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی کی سربراہی میں پاکستانی وفد سے ملاقات کے دوران دیا۔
یہ ملاقات پاکستان کی اُس سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ تھی جس کا مقصد عالمی طاقتوں کے ساتھ معاشی، تجارتی، توانائی، صنعتی اور رابطہ کاری کے میدانوں میں تعلقات کو وسعت دینا ہے۔
اوورچک نے کہا، "صدر پیوٹن پاکستان کو خطے کی ترقی کے لیے ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دونوں ممالک قدرتی اتحادی ہیں، اور ہماری معاشی و تزویراتی سوچ میں مطابقت بڑھتی جا رہی ہے۔”
وفد میں وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان بھی شامل تھے، جو پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے حکومتی فوکل پرسن کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ یہ منصوبہ پاکستان اور روس (سابقہ سوویت یونین) کے تاریخی تعلقات کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے۔
مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے سیاسی روابط، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، زراعت اور علاقائی رابطے جیسے اہم شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان اور روس نے ان تمام شعبہ جات میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
طارق فاطمی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، اور روس کو عالمی استحکام کا ایک مؤثر کردار سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا، "روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا ہماری خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔”
روسی نائب وزیراعظم اوورچک نے بتایا کہ صدر پیوٹن آئندہ ماہ چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے منتظر ہیں۔
ہارون اختر نے کراچی میں نئے اسٹیل مل منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک "علامتی پیش رفت” بن سکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1956 میں سوویت وزیرِاعظم نکولائی بولگانن نے پاکستان کے اُس وقت کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی کو تکنیکی تعاون کی پیشکش کی تھی تاکہ پاکستان کی پہلی اسٹیل مل قائم کی جا سکے۔
ہارون اختر نے پاکستان کی سرمایہ کار دوست صنعتی پالیسی پر بھی روشنی ڈالی، اور موجودہ حکومت کے تحت حاصل شدہ معاشی استحکام کا ذکر کیا۔
اوورچک، جنہوں نے ستمبر 2024 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اکتوبر میں اسلام آباد میں SCO سربراہی اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی، اُن تجربات کو خوشگوار قرار دیا۔ انہوں نے خطے میں روابط بڑھانے کے لیے زیر غور منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ازبکستان، پاکستان اور روس کے درمیان مجوزہ ریلوے لائن اور اگست 2025 میں پاکستان اور روس کے درمیان پائلٹ کارگو ٹرین کا آغاز شامل ہے۔
اقتصادی تعاون کے علاوہ، دونوں ممالک نے خطے اور دنیا کی موجودہ صورتحال، جیسے جنوبی ایشیا، افغانستان اور مشرقِ وسطیٰ کے حالات، اور بین الاقوامی فورمز پر باہمی اشتراک پر بھی گفتگو کی۔ ملاقات کے اختتام پر اوورچک نے پاکستانی وفد کے دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر پیوٹن پاکستان کے ساتھ تمام اہم شعبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں، چاہے وہ توانائی ہو، انفرا اسٹرکچر ہو یا سفارتی تعاون