اسلام آباد — وزیرِاعظم شہباز شریف نے جمعرات کو علی بابا گروپ کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران ای کامرس کو پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی کا ایک کلیدی ستون قرار دیا اور اس شعبے کی ترقی کے لیے ایک جامع قومی روڈ میپ کی تیاری کی ہدایت کی۔
یہ ملاقات علی بابا انٹرنیشنل مارکیٹس کے صدر جیمز ڈونگ کی سربراہی میں چھ رکنی وفد کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی، جہاں ڈیجیٹل معیشت کے تناظر میں پاکستان کی نئی سمت پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "ای کامرس اب محض ایک انتخاب نہیں، بلکہ ہماری معیشت کو برآمدات کے محور پر استوار کرنے کی جدوجہد میں یہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔” انہوں نے متعلقہ اداروں کو فوری طور پر ایک خصوصی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی، جو پاکستان کی ڈیجیٹل برآمدی حکمت عملی کے خدوخال وضع کرے گی۔
علی بابا کے وفد نے پاکستانی کاروباری افراد کی عالمی ای کامرس پلیٹ فارمز پر بڑھتی ہوئی موجودگی کو سراہا۔ شہباز شریف نے بتایا کہ اس وقت علی بابا کے پلیٹ فارم پر 3 لاکھ سے زائد پاکستانی مصنوعات — جن میں سب سے نمایاں ٹیکسٹائل ہے — فروخت کے لیے دستیاب ہیں۔ انہوں نے اس تعداد کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ "پاکستانی دستکار، صنعت کار اور چھوٹے کاروباری ادارے غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنی مصنوعات کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے ڈیجیٹل تجارت کے مواقع کو بھرپور انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔”
اس موقع پر جیمز ڈونگ نے کہا، "پاکستان میں ای کامرس کا جو ممکنہ حجم ہے، ہم ابھی صرف اس کی سطح کو چھو رہے ہیں۔” انہوں نے علی بابا گروپ کی جانب سے پاکستانی کاروباری افراد کو تکنیکی تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور لاجسٹک سہولیات فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ڈونگ کا کہنا تھا، "ہم پاکستانی تاجروں کے لیے ایسے پروگرامز ترتیب دینا چاہتے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیار کی ضروریات کو پورا کر سکیں اور اپنی برآمدات کو فروغ دے سکیں۔”
ملاقات میں پاکستان میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، ادائیگی کے نظام اور لاجسٹک نیٹ ورک کو بہتر بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔
پی این ایس سی کی بہتری: سمندری شعبے میں الگ پیش رفت
اسی روز وزیراعظم نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کے ڈھانچے، اصلاحات اور کارکردگی پر ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ شہباز شریف نے ہدایت دی کہ پی این ایس سی کو عالمی معیار کی شپنگ کمپنی میں بدلنے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا جائے۔
انہوں نے کہا، "پاکستان کا شپنگ سیکٹر سرمایہ کاری اور تجارت دونوں لحاظ سے بے پناہ امکانات کا حامل ہے۔ ہمیں اسے عالمی مقابلے کے قابل بنانے کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔” پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو اقتصادی بحالی کی راہ پر گامزن ہے، ای کامرس اور شپنگ جیسے اہم شعبوں میں یہ دوہری کوششیں عالمی تجارتی منظرنامے میں بہتر مقام حاصل کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہیں