ہیٹی میں بڑھتے ہوئے جرائم پر پاکستان کی سلامتی کونسل سے فوری اقدام کی اپیل

ہیٹی میں بڑھتے ہوئے جرائم پر پاکستان کی سلامتی کونسل سے فوری اقدام کی اپیل

اقوام متحدہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) سے مطالبہ کیا ہے کہ ہیٹی میں بڑھتے ہوئے جرائم اور بدامنی کے بحران کو روکنے کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر یہ ملک مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، جو جولائی میں پاکستان کی صدارت کا پہلا باضابطہ اجلاس تھا، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اب ہیٹی کے معاملے پر "آدھے ادھورے اقدامات” کا وقت گزر چکا ہے۔

انہوں نے کہا، “جرائم پیشہ گروہوں نے ہیٹی کی سڑکوں کو میدان جنگ بنا دیا ہے۔ انتقامی قتل و غارت میں اضافہ ہو رہا ہے، بچوں کو مسلح گروہوں میں بھرتی کیا جا رہا ہے، اور بنیادی سہولیات کے خاتمے نے لاکھوں افراد کو خوف اور شدید غذائی قلت کا شکار کر دیا ہے۔”

سفیر عاصم نے زور دیا کہ اس بحران کا حل صرف ایک ایسا سیاسی عمل ہو سکتا ہے جو ہیٹی کے عوام کی قیادت میں ہو اور جسے مضبوط بین الاقوامی حمایت حاصل ہو۔

انہوں نے کینیا کی قیادت میں قائم کثیر القومی سکیورٹی سپورٹ مشن (MSS) کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ سلامتی کونسل کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ مشن مضبوط، وسائل سے بھرپور اور مؤثر ہو۔

انہوں نے خبردار کیا، “اگر ایسا نہ کیا گیا تو کل کو اجتماعی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہیٹی کے لوگ امن، وقار اور خوف سے پاک زندگی گزارنے کے حقدار ہیں۔ پاکستان سلامتی کونسل میں اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔”

اجلاس میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداران نے ہیٹی کی صورتحال پر تشویشناک بریفنگ دی۔ اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے امریکہ، میروسلاو جینکا نے بتایا کہ رواں سال جنوری سے ریاستی عملداری تیزی سے کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح گروہوں نے پورٹ او پرنس شہر کو مفلوج کر دیا ہے، یہاں تک کہ بین الاقوامی پروازیں بھی معطل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حالات نہ سنبھلے تو ریاستی اداروں کا مکمل انہدام ایک حقیقت بن سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ فتحی والی نے ویانا سے اجلاس کو بتایا کہ جرائم پیشہ گروہوں نے تجارتی راستوں پر قبضہ کر رکھا ہے جس سے قانونی تجارت متاثر ہو رہی ہے، غذائی قلت بڑھ رہی ہے اور انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، “ریاست کی حکمرانی کی صلاحیت تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے اور اس کے دور رس اثرات سامنے آئیں گے۔”

کشمیر کا معاملہ بھی اجاگر

اس سے قبل اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے مسئلہ کشمیر کی جانب بھی عالمی توجہ دلائی اور کہا کہ یہ دیرینہ تنازعہ آج بھی حل طلب ہے۔

انہوں نے کہا، “یہ وقت ہے کہ اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔ اور میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم تو سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے عارضی طور پر یہاں موجود ہیں۔”

انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل، خاص طور پر اس کے مستقل ارکان کو چاہیئے کہ وہ اپنی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کرائیں۔ واضح رہے کہ یکم جولائی کو پاکستان نے سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت سنبھالی ہے، جو اسلام آباد کیلئے ایک اہم موقع ہے کہ وہ عالمی فورم پر علاقائی و بین الاقوامی امور کو مؤثر طریقے سے اجاگر کر سکےاقوام متحدہ – پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) سے مطالبہ کیا ہے کہ ہیٹی میں بڑھتے ہوئے جرائم اور بدامنی کے بحران کو روکنے کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر یہ ملک مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، جو جولائی میں پاکستان کی صدارت کا پہلا باضابطہ اجلاس تھا، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اب ہیٹی کے معاملے پر "آدھے ادھورے اقدامات” کا وقت گزر چکا ہے۔

انہوں نے کہا، “جرائم پیشہ گروہوں نے ہیٹی کی سڑکوں کو میدان جنگ بنا دیا ہے۔ انتقامی قتل و غارت میں اضافہ ہو رہا ہے، بچوں کو مسلح گروہوں میں بھرتی کیا جا رہا ہے، اور بنیادی سہولیات کے خاتمے نے لاکھوں افراد کو خوف اور شدید غذائی قلت کا شکار کر دیا ہے۔”

سفیر عاصم نے زور دیا کہ اس بحران کا حل صرف ایک ایسا سیاسی عمل ہو سکتا ہے جو ہیٹی کے عوام کی قیادت میں ہو اور جسے مضبوط بین الاقوامی حمایت حاصل ہو۔

انہوں نے کینیا کی قیادت میں قائم کثیر القومی سکیورٹی سپورٹ مشن (MSS) کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ سلامتی کونسل کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ مشن مضبوط، وسائل سے بھرپور اور مؤثر ہو۔

انہوں نے خبردار کیا، “اگر ایسا نہ کیا گیا تو کل کو اجتماعی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ہیٹی کے لوگ امن، وقار اور خوف سے پاک زندگی گزارنے کے حقدار ہیں۔ پاکستان سلامتی کونسل میں اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔”

اجلاس میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیداران نے ہیٹی کی صورتحال پر تشویشناک بریفنگ دی۔ اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے امریکہ، میروسلاو جینکا نے بتایا کہ رواں سال جنوری سے ریاستی عملداری تیزی سے کمزور ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح گروہوں نے پورٹ او پرنس شہر کو مفلوج کر دیا ہے، یہاں تک کہ بین الاقوامی پروازیں بھی معطل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حالات نہ سنبھلے تو ریاستی اداروں کا مکمل انہدام ایک حقیقت بن سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ فتحی والی نے ویانا سے اجلاس کو بتایا کہ جرائم پیشہ گروہوں نے تجارتی راستوں پر قبضہ کر رکھا ہے جس سے قانونی تجارت متاثر ہو رہی ہے، غذائی قلت بڑھ رہی ہے اور انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، “ریاست کی حکمرانی کی صلاحیت تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے اور اس کے دور رس اثرات سامنے آئیں گے۔”

کشمیر کا معاملہ بھی اجاگر

اس سے قبل اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے مسئلہ کشمیر کی جانب بھی عالمی توجہ دلائی اور کہا کہ یہ دیرینہ تنازعہ آج بھی حل طلب ہے۔

انہوں نے کہا، “یہ وقت ہے کہ اس مسئلے کا حل نکالا جائے۔ اور میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہم تو سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے عارضی طور پر یہاں موجود ہیں۔”

انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل، خاص طور پر اس کے مستقل ارکان کو چاہیئے کہ وہ اپنی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد کرائیں۔ واضح رہے کہ یکم جولائی کو پاکستان نے سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت سنبھالی ہے، جو اسلام آباد کیلئے ایک اہم موقع ہے کہ وہ عالمی فورم پر علاقائی و بین الاقوامی امور کو مؤثر طریقے سے اجاگر کر سکے

More From Author

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اسرائیل جنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا، نقوی

لیاری کا سانحہ: پانچ منزلہ عمارت گرنے سے 27 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن مکمل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے