اسلام آباد – وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کو انکشاف کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی کروانے میں اہم کردار ادا کیا، جو دونوں ملکوں کے درمیان لگ بھگ دو ہفتے جاری رہنے والے حملوں کے بعد ممکن ہوئی۔
اسلام آباد میں محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی انتظامات پر علمائے کرام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے بحران میں وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی کوششیں مرکزی حیثیت رکھتی تھیں۔ یہ بحران گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے، جس میں ایرانی فوج کے اعلیٰ کمانڈر اور جوہری سائنسدان ہلاک ہوگئے تھے۔ جواب میں تہران نے اسرائیلی شہروں پر بیلسٹک میزائل داغے اور دعویٰ کیا کہ اُنہوں نے مقبوضہ علاقوں میں اہم اہداف کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اس پورے عرصے کے دوران پاکستان نے ہر عالمی فورم، بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی میں، ایران کی حمایت کی اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر پہزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو بھی کی، جس میں ایرانی صدر نے پاکستان کے اصولی مؤقف اور مسلسل حمایت پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔
محسن نقوی کے مطابق،
"وزیراعظم کی کوششوں کی بدولت ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ممکن ہو سکی۔”
علاقائی کشیدگی پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے حالیہ پاک بھارت تصادم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس 87 گھنٹے طویل تنازعے میں پاکستان کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستانی فوجی اڈے پر تقریباً 11 میزائل فائر کیے مگر ایک بھی اپنے ہدف کو نشانہ نہ بنا سکا۔
"بھارت کی طرف سے داغا گیا کوئی بھی میزائل اپنے ہدف تک نہیں پہنچا، نہ ہی ہمارا کوئی طیارہ متاثر ہوا،”
انہوں نے کہا، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان نے جان بوجھ کر بھارتی شہری آبادی کو نشانہ بنانے سے گریز کیا۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بغیر کسی جواز کے پاکستانی شہروں پر فضائی حملے کیے۔ اس کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے "آپریشن بنیان مرصوص” کے تحت بھارت کے مختلف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
حکام کے مطابق، اس کشیدگی میں بھارتی حملوں کے نتیجے میں 53 پاکستانی شہید ہوئے جن میں 13 فوجی اہلکار اور 40 شہری شامل تھے۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ محرم کے دوران امن و امان کے قیام کے لیے اتحاد اور یکجہتی ضروری ہے تاکہ دہشتگرد عناصر کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے