لیاری کا سانحہ: پانچ منزلہ عمارت گرنے سے 27 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن مکمل

کراچی — 7 جولائی، 2025

لیاری کے علاقے بغدادی میں گرنے والی پانچ منزلہ رہائشی عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے جاری 50 گھنٹے طویل ریسکیو آپریشن اتوار کی شب مکمل ہو گیا۔ حکام کے مطابق افسوسناک واقعے میں 27 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور ایک کمسن بچی بھی شامل ہے۔

یہ اندوہناک واقعہ جمعے کی صبح پیش آیا جب عمارت اچانک زمین بوس ہو گئی، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ تنگ و تاریک گلیوں والے اس پرانے علاقے میں فوری طور پر ریسکیو 1122، ایدھی فاؤنڈیشن اور دیگر ہنگامی ادارے پہنچے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔

سول اسپتال کراچی کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 11 خواتین، 16 مرد اور ڈیڑھ سالہ ایک بچی شامل ہے۔ زیادہ تر افراد کو سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ زخمیوں میں سے 55 سالہ فاطمہ دورانِ علاج دم توڑ گئیں، جبکہ 10 افراد ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر روانہ کر دیے گئے۔ ایک زخمی خاتون، 30 سالہ ثناطیہ تاحال زیر علاج ہیں۔

ریسکیو ٹیموں کو ملبے سے آخری لاش 15 سالہ محمد زید کی ملی، جو سیڑھیوں کے قریب دبا ہوا تھا۔ زید کا بڑا بھائی، جو حادثے میں زندہ بچ گیا، غم سے نڈھال ہو کر بتاتا ہے کہ عمارت گرنے کے وقت اُس نے اپنے چھوٹے بھائی کو بچانے کی کوشش کی، لیکن بھاگتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوٹ گیا۔ زید کے ساتھ ان کے والد اور دو بھائی بھی اس حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔

زید کی لاش اس مقام سے نکالی گئی جہاں پہلے بھی کئی لاشیں مل چکی تھیں، مگر وہ گہرائی میں دب جانے کے باعث پہلے نظر نہ آ سکی۔ اہل خانہ کے اصرار پر سرچ ٹیم دوبارہ وہاں پہنچی اور جدید مشینری کی مدد سے لاش نکالی گئی۔

امدادی کارروائیوں کے دوران تین مختلف مقامات سے نقدی، زیورات اور چیکس بھی برآمد ہوئے، جو مقامی یونین کونسل کے حوالے کر دیے گئے تاکہ متاثرہ خاندانوں تک پہنچ سکیں۔

ریسکیو 1122 ساؤتھ کے انچارج حمیر وحید نے بتایا کہ 95 فیصد ملبہ ہٹا دیا گیا ہے اور اب ملبے تلے مزید کسی کے دبے ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ’’اب جائے وقوعہ پر کوئی خاندان ایسا موجود نہیں جو کسی لاپتہ فرد کی تلاش میں ہو،‘‘ انہوں نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی انتہائی احتیاط سے کی گئی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مزید صدمہ نہ پہنچے۔

عمارت کے نیچے کھڑے متعدد رکشے اور موٹر سائیکلیں بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ مقامی افراد نے بتایا کہ عمارت کی گراؤنڈ فلور عام طور پر پارکنگ کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

چیف فائر اینڈ ریسکیو آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ لیاری کی تنگ گلیوں نے امدادی کاموں میں سخت مشکلات پیدا کیں، جیسا کہ لیاقت آباد اور گلبہار جیسے علاقوں میں ہوتا ہے۔ ’’رش، محدود رسائی اور ایمبولینسوں کی بڑی تعداد نے ہماری کارروائیوں کو سست کیا، لیکن ہم نے جدید آلات کی مدد سے کام جاری رکھا،‘‘ انہوں نے کہا۔ ہمایوں خان کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شہر کی بلند عمارتوں کا سروے جاری ہے۔ صرف آئی آئی چندریگر روڈ اور شارع فیصل پر 266 عمارتوں میں سے 190 کو ناقابلِ رہائش قرار دیا گیا ہے، اور لیاری جیسے پرانے علاقوں میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

ریسکیو 1122 کے انچارج روشن علی نے بتایا کہ تمام لاپتہ افراد کی شناخت مکمل ہو چکی ہے اور اب کوئی فرد باقی نہیں۔ ’’ہم نے ہر اطلاع کو فالو کیا، تمام لاشیں نکال لی گئیں، صرف معمولی ملبہ باقی ہے جسے آئندہ دو گھنٹوں میں صاف کر لیا جائے گا،‘‘ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ لیاری آج اپنے پیاروں کا سوگ منا رہا ہے۔ یہ سانحہ ایک بار پھر ہمارے سامنے یہ تلخ حقیقت رکھتا ہے کہ شہرِ کراچی میں غیر محفوظ اور بوسیدہ عمارتوں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے — اس سے پہلے کہ کوئی اور جان ملبے تلے دفن ہو جائے

More From Author

ہیٹی میں بڑھتے ہوئے جرائم پر پاکستان کی سلامتی کونسل سے فوری اقدام کی اپیل

وزیرِاعظم شہباز شریف کا یومِ عاشور پر پُرامن ماحول یقینی بنانے پر صوبوں اور سیکیورٹی اداروں کو خراجِ تحسین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے