اسلام آباد – 8 اگست 2025:
قومی ڈیٹا بیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، کیونکہ ملک بھر سے قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کے اجرا میں تاخیر، بدعنوانی اور غیر ضروری اعتراضات سے متعلق تقریباً 20 ہزار شکایات سامنے آئی ہیں۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کروائی گئی ایک تحریری رپورٹ کے مطابق، گزشتہ برس نادرا کے خلاف مجموعی طور پر 19,901 شکایات درج کی گئیں، جو اس بنیادی عوامی خدمت کے نظام میں موجود مستقل مسائل کو واضح کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، یہ شکایات تین بڑی اقسام میں تقسیم کی گئی ہیں — درخواستوں پر غیر معمولی تاخیر، بدعنوانی کے الزامات، اور غیر ضروری اعتراضات یا اضافی دستاویزات کا مطالبہ — جنہوں نے شہریوں کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے اور ہزاروں افراد تاحال شناختی کارڈ سے محروم ہیں۔
کراچی شکایات میں سرفہرست
نادرا کے خلاف 13,500 شکایات صرف تاخیر سے متعلق تھیں، جن میں کراچی سب سے آگے رہا، جہاں 7,872 شکایات درج کی گئیں۔ اس کے بعد ملتان (2,605)، لاہور (1,313)، سرگودھا (344)، جبکہ اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے مجموعی طور پر 471 شکایات موصول ہوئیں۔
اسی طرح، غیر ضروری اعتراضات اور اضافی کاغذات کے مطالبے کے حوالے سے بھی سب سے زیادہ 3,940 شکایات کراچی سے رپورٹ ہوئیں۔ اس کے بعد ملتان (638)، سرگودھا (612)، گوادر اور کوئٹہ (مجموعی طور پر 291)، اور سکھر (151) شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لاہور اور پشاور سے اس حوالے سے کوئی شکایت درج نہیں ہوئی۔
کرپشن کے الزامات بھی تشویشناک
نادرا دفاتر میں کرپشن کے الزامات بھی باعثِ تشویش ہیں۔ کراچی ایک بار پھر اس معاملے میں سرفہرست ہے، جہاں 254 شکایات بدعنوانی سے متعلق موصول ہوئیں۔ اس کے بعد ملتان میں 37، لاہور میں 26، پشاور میں 33، کوئٹہ اور گوادر میں 14، اور سکھر میں 20 شکایات سامنے آئیں۔
کیا تادیبی کارروائی کافی ہے؟
شکایات کے بعد وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ نادرا کے 131 ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائیاں شروع کی گئی ہیں، جبکہ 39 ملازمین کو برطرف بھی کیا جا چکا ہے۔
تاہم، عوام اور ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات نظام میں موجود گہرے مسائل کو حل کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ رپورٹ میں نادرا کے سروس ڈلیوری سسٹم میں اصلاحات، شفافیت کے فروغ اور افسران کو جوابدہ بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے، تاکہ شہریوں کو شناختی کارڈ کے حصول میں درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ صورتحال کے پیشِ نظر، نہ صرف نادرا بلکہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی عوامی خدمات پر اعتماد بھی داؤ پر لگ چکا ہے