۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تجویز کے بعد آیا، جس میں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات سے قبل کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے میں “کچھ علاقوں کا تبادلہ” شامل ہوگا۔
زیلینسکی نے کہا کہ یوکرین حقیقی امن حل کے لیے تیار ہے، مگر کوئی بھی معاہدہ جو کیف کی شمولیت کے بغیر ہو، “امن کے خلاف” ہوگا اور کچھ حاصل نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ جمعہ کو الاسکا میں پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ روسی میڈیا نے تاریخ اور مقام کی تصدیق کر دی۔ ٹرمپ نے کہا کہ ملاقات سیکیورٹی انتظامات کی وجہ سے مؤخر ہوئی اور دعویٰ کیا کہ دونوں فریق علاقے کے تبادلے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں — تاہم تفصیلات نہیں دیں۔
بلومبرگ کے مطابق ممکنہ معاہدہ روس کے کچھ علاقائی قبضوں کو باضابطہ تسلیم کر سکتا ہے، جس سے خیرسون اور زاپوریزژیا میں محاذ کی لکیر منجمد ہو جائے گی، جبکہ امریکی اور روسی حکام روسی جارحیت روکنے کے بدلے رعایتوں پر بات کر رہے ہیں۔
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے زیلینسکی سے بات کے بعد کہا کہ اس بات کے اشارے ہیں کہ تنازع کا “جمود” قریب ہو سکتا ہے، اگرچہ زیلینسکی “محتاط مگر پُرامید” ہیں۔
ٹرمپ نے حال ہی میں روس سے بھارتی تیل کی درآمد پر ٹیرف بڑھایا ہے، جس سے نئی دہلی کے ساتھ کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
پیوٹن نے کہا کہ وہ ابھی زیلینسکی سے ملاقات کے لیے تیار نہیں ہیں، تاہم کریملن نے ٹرمپ سے ملاقات کی تیاری کی تصدیق کی ہے۔