اسلام آباد – آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے بلوچستان میں مگسی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کی تکمیل کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ گیس فیلڈ روزانہ ایک کروڑ 40 لاکھ مکعب فٹ گیس قومی نظام میں فراہم کر رہا ہے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق منصوبے کو وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایات پر تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا۔ گیس کے ساتھ ساتھ یومیہ 45 بیرل کنڈینسیٹ بھی حاصل ہو رہا ہے، جسے سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی ایل) کے مین پائپ لائن نیٹ ورک میں شامل کر دیا گیا ہے تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین تک سپلائی یقینی بنائی جا سکے۔
یہ منصوبہ حکومت کی جانب سے فروری 2024 میں منظور کیے گئے خصوصی مراعاتی پیکیج کے بعد شروع کیا گیا تھا۔ او جی ڈی سی ایل اس منصوبے میں آپریٹر کی حیثیت سے 56 فیصد حصص رکھتا ہے، جب کہ پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ (پی او ایل) کے پاس 24 فیصد اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) کے پاس 20 فیصد حصص ہیں۔
صرف توانائی کے شعبے تک محدود رہنے کے بجائے او جی ڈی سی ایل نے جهل مگسی میں کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (CSR) کے تحت کئی فلاحی منصوبے بھی شروع کیے ہیں۔ ان میں اسکولوں اور صحت کے مراکز کی تعمیر، کم آمدنی والے اور بے گھر خاندانوں کے لیے 84 ماڈل مکانات کی فراہمی شامل ہے۔ مقامی نوجوانوں کو نیوٹیک کے ذریعے وظائف اور ٹیکنیکل تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جب کہ ایمبولینس سروس، فری آئی کیمپس اور راشن بیگز 800 سے زائد گھروں تک پہنچائے گئے ہیں۔
کمپنی نے مزید بتایا کہ علاقے میں دو آر او پلانٹس اور متعدد واٹر ٹینکس بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ مقامی آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی میسر ہو۔ ترجمان کے مطابق اس نوعیت کے ترقیاتی منصوبے نہ صرف پاکستان کی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ مقامی آبادی کو بھی براہِ راست فائدہ پہنچاتے ہیں اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں