ایمنسٹی کا الزام: اسرائیل غزہ کے عوام کو بھوک سے مار رہا ہے

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے فلسطینیوں کو بھوک اور قحط کا شکار بنانے کے لیے ایک "سوچی سمجھی پالیسی” پر عمل پیرا ہے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی ادارے اس محصور علاقے میں بڑے پیمانے پر قحط کے خطرے سے خبردار کر رہے ہیں۔

سوموار کو جاری کردہ اپنی تفصیلی رپورٹ میں انسانی حقوق کی اس تنظیم نے کہا کہ اسرائیل نہ صرف بنیادی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے بلکہ غزہ میں عام شہریوں کی زندگی کو سہارا دینے والے ڈھانچے کو بھی منظم انداز میں تباہ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نتائج بے گھر فلسطینیوں اور غزہ سٹی کے اسپتالوں میں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے بیانات پر مبنی ہیں۔

ایمنسٹی نے کہا، "اسرائیل محض خوراک اور ادویات کو روکے ہوئے نہیں بلکہ فلسطینی معاشرے کے صحت، سماجی اور معاشی ڈھانچے کو بھی ٹکڑوں میں بانٹ رہا ہے۔” رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدامات فلسطینیوں کی "جسمانی تباہی” کے لیے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں، جسے اسرائیل کے جاری نسل کُشی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تنظیم کے محققین نے تین خیمہ بستیوں میں 19 بے گھر فلسطینیوں اور دو طبی عملے کے ارکان سے انٹرویوز کیے۔ متاثرین نے بھوک کے پھیلاؤ، صحت کے نظام کے انہدام اور بمباری و بے دخلی کے سائے میں بقا کی جدوجہد کی کہانیاں سنائیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جب اس رپورٹ پر اسرائیلی فوج اور وزارتِ خارجہ سے ردِعمل مانگا تو کوئی فوری جواب نہیں دیا گیا۔ اسرائیل ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ امداد پر پابندیاں صرف سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہیں۔ ایمنسٹی اس سے قبل بھی ایسے ہی الزامات عائد کر چکی ہے۔ رواں سال اپریل میں تنظیم نے کہا تھا کہ اسرائیل غزہ کے عوام کو زبردستی بے گھر کرکے اور انسانی بحران پیدا کرکے ایک "براہِ راست نشر ہونے والی نسل کُشی” میں مصروف ہے، تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا تھا

More From Author

مگسی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ: بلوچستان کا بڑا گیس فیلڈ پیداوار میں شامل

بھارت کی زبانی جنگ بندی کی خلاف ورزی، پاکستان الرٹ پر ہے: اسحاق ڈار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے