راجاب بٹ نے پاکستان چھوڑ دیا، ماں کی اجازت کے بغیر وی لاگنگ سے کنارہ کشی کا اعلان

تحریر: [آپ کا نام] | 18 جولائی 2025

مشہور یوٹیوبر راجاب بٹ نے حالیہ تنازعے اور قانونی کارروائیوں کے دوران خاموشی سے پاکستان چھوڑ دیا ہے، اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس وقت تک یوٹیوب پر وی لاگز اپلوڈ نہیں کریں گے جب تک ان کی والدہ انہیں اجازت نہیں دیتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انہوں نے اپنی اور اپنے خاندان کی سلامتی کے پیش نظر کیا ہے۔

راجاب بٹ، جو اپنی روزمرہ زندگی پر مبنی دلچسپ ویڈیوز اور وی لاگز کے لیے لاکھوں فالورز کے دلوں میں جگہ رکھتے ہیں، اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ الزام ہے کہ ان کے محرم سے متعلق ایک وی لاگ میں اسلامی شخصیات کی توہین کی گئی، جس پر قانونی شکایات بھی درج کرائی گئی ہیں اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مہم شدت اختیار کر گئی ہے۔

حالیہ دنوں میں کیے گئے ایک ٹک ٹاک لائیو سیشن میں، انہوں نے اپنا مقام واضح نہیں کیا، مگر دبئی اور پاکستان کے وقت کا بیک وقت حوالہ دیتے ہوئے بیرونِ ملک موجودگی کا اشارہ دیا۔ ان کے انداز میں نمایاں سنجیدگی تھی۔ انہوں نے کہا:
"میں وی لاگنگ چھوڑ نہیں رہا، لیکن تب تک کچھ اپلوڈ نہیں کروں گا جب تک امّی اجازت نہیں دیتیں۔ اس وقت میری ترجیح صرف حفاظت ہے — اپنی اور اپنی فیملی کی۔”

پہلے بھی چھوڑ چکے ہیں ملک، مگر اس بار لہجہ مختلف ہے

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب راجاب بٹ نے تنازعے کے دوران پاکستان چھوڑا ہو۔ اس سے قبل بھی ایک تنازعے میں وہ کئی مہینوں کے لیے دبئی میں رہے، پھر لندن گئے، اور جب معاملات تھمے تو پاکستان واپس آئے۔ مگر اس بار ان کے لہجے میں کچھ مختلف ہے — جیسے کوئی اندرونی کشمکش، کوئی ذاتی احتساب۔

انہوں نے بتایا کہ روانگی کا فیصلہ ان کی والدہ کا تھا، جنہوں نے نہ صرف اصرار کیا بلکہ خود انہیں ایئرپورٹ چھوڑنے گئیں۔ راجاب نے کہا:
"امی بہت پریشان تھیں۔ انہیں میری ویڈیوز سے زیادہ میری زندگی کی فکر ہے۔”

اگرچہ یوٹیوب پر وہ خاموش ہیں، لیکن راجاب نے تصدیق کی کہ وہ ٹک ٹاک لائیو پر مداحوں سے رابطے میں رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی کچھ وضاحتی ویڈیوز ریکارڈ کر لی ہیں، مگر وہ تبھی جاری کریں گے جب ماحول سازگار ہوگا۔

الزامات اور دفاع — اپنی بات کا انتظار

تنازعے کی جڑ ایک ویڈیو کا وہ حصہ ہے جسے کچھ ناظرین نے حضرت محمدﷺ کے ایک صحابی کی مبینہ توہین قرار دیا۔ اس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، قانونی کارروائی کی باتیں ہوئیں اور بائیکاٹ کی مہم چل نکلی۔

لیکن راجاب بٹ ان الزامات کو من گھڑت اور ایک پلاننگ کے تحت شہرت حاصل کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا:
"کچھ لوگ میرے نام پر خود کو مشہور کرنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ مجھے واقعی جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ میں کبھی کسی کے عقیدے کی بے ادبی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہر سوال کا جواب دیں گے، مگر محفوظ ماحول میں، مناسب وقت پر۔

ایک ماں کی آواز، ایک بیٹے کا فیصلہ

اس دور میں جہاں اکثر یوٹیوبرز ویوز اور لائکس کے لیے ذاتی حدود پار کر جاتے ہیں، راجاب بٹ کا یہ فیصلہ — کہ وہ ماں کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کریں گے — ایک نایاب انسانی پہلو سامنے لاتا ہے۔

لائیو سیشن کے اختتام پر انہوں نے کہا:
"میں اپنی ماں کی دعا کے بغیر کچھ نہیں کرتا۔ اور ابھی انہوں نے اجازت نہیں دی، اس لیے میں انتظار کروں گا۔”

یہ ایک خاموشی ہے جو بہت کچھ کہتی ہے — شہرت یا تنقید سے نہیں، بلکہ اقدار، رشتوں اور انسانیت کی گہرائیوں سے۔

More From Author

سرحدوں سے آگے: پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان ریلوے منصوبے پر تاریخی معاہدہ

 برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے