اسلام آباد – 8 اگست 2025: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی کرکٹر حیدر علی کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب بورڈ کو باضابطہ طور پر اطلاع ملی کہ برطانیہ میں گریٹر مانچسٹر پولیس ان کے خلاف ایک فوجداری مقدمے کی تفتیش کر رہی ہے۔
پی سی بی نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ یہ تحقیقات پاکستان شاہینز کی حالیہ انگلینڈ سیریز کے دوران پیش آنے والے ایک مبینہ واقعے سے متعلق ہیں۔ تاہم بورڈ نے تحقیقات کی نوعیت یا تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے، اس مؤقف کے ساتھ کہ قانونی عمل کی حساسیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
بورڈ کے ترجمان کا کہنا تھا: "بطور ادارہ ہمارا فرض ہے کہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اسی تناظر میں پی سی بی نے حیدر علی کو مناسب قانونی معاونت فراہم کی ہے تاکہ وہ اس عمل کے دوران اپنے حقوق کا دفاع کر سکیں۔”
پی سی بی کے مطابق حیدر علی کو فوری طور پر معطل کیا گیا ہے اور یہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک برطانوی حکام کی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مکمل حقائق سامنے آنے کے بعد بورڈ اپنے ضابطہ اخلاق کے تحت مناسب کارروائی کا فیصلہ کرے گا۔
پی سی بی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کرے گا تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی پر اثر انداز نہ ہو۔
24 سالہ حیدر علی ایک جارح مزاج دائیں ہاتھ کے بیٹر ہیں جنہوں نے 2020 میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا۔ اگرچہ انہوں نے پاکستان کے لیے صرف دو ون ڈے میچز کھیلے ہیں، لیکن وہ 35 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز میں قومی ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں جن میں انہوں نے 17.41 کی اوسط سے 505 رنز بنائے اور تین نصف سنچریاں اسکور کیں۔ ڈومیسٹک اور فرنچائز لیگز میں ان کی کارکردگی بھی نمایاں رہی ہے جہاں وہ 3,000 سے زائد رنز اور 17 ففٹیز بنا چکے ہیں۔ وہ پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی جیسے بڑے فرنچائزز کا بھی حصہ رہ چکے ہیں۔ ان کی معطلی ان کے کیریئر کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے، اور اب ان کے مستقبل پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں — خاص طور پر اس وقت جب ان کے خلاف غیر ملکی سرزمین پر قانونی کارروائی جاری ہے