کراچی: پاکستان کا طبی حلقہ آج ایک غیر متوقع اور گہرے صدمے سے دوچار ہے، جہاں ملک کے ممتاز نیورولوجسٹ اور پارکنسنز جیسے پیچیدہ مرض کے معالج، ڈاکٹر نادر علی سید انتقال کر گئے۔ ان کا انتقال جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب کراچی میں ان کی رہائش گاہ پر ہوا۔ ان کی عمر تقریباً 58 برس تھی۔
ڈاکٹر نادر کی اچانک وفات نے نہ صرف ان کے ساتھی ڈاکٹروں، شاگردوں اور مریضوں کو غمزدہ کیا ہے بلکہ طب کے شعبے میں ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے سب اشک بار ہیں۔ نرم مزاج، شفیق طبیعت اور غیر معمولی طبی قابلیت کے حامل ڈاکٹر نادر بظاہر صحت مند تھے اور اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں بھرپور مصروف تھے۔
وہ ساوتھ سٹی اسپتال سے بطور کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ وابستہ تھے جبکہ آغا خان یونیورسٹی کے فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز میں بھی پارٹ ٹائم تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ ماضی میں جامعہ کے سینئر تعلیمی عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ مرگی، فالج، پارکنسنز اور پیچیدہ سر درد جیسے امراض کے علاج میں ان کا نام ایک حوالہ سمجھا جاتا تھا۔
کراچی گرامر اسکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر نادر نے آغا خان یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس میں نمایاں کارکردگی کے ساتھ گریجویشن مکمل کیا۔ بعدازاں وہ اعلیٰ تربیت کے لیے امریکہ چلے گئے، جہاں انہوں نے نیوجرسی یونیورسٹی آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری سے نیورولوجی میں ریذیڈنسی مکمل کی اور چیف ریزیڈنٹ مقرر ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH), میری لینڈ سے دو سالہ فیلوشپ مکمل کی—جو دنیا کے معتبر ترین تحقیقی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔
1998 میں وطن واپسی کے بعد وہ دوبارہ آغا خان یونیورسٹی سے منسلک ہوئے اور نیوروسائنسز کے شعبے کے تعلیمی نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ بعدازاں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کے ایسوسی ایٹ ڈین بھی مقرر ہوئے اور یونیورسٹی کے نیورولوجی ڈیپارٹمنٹ کو ملک کا سب سے بڑا شعبہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اُن کی تدریسی خدمات نے طلبہ کی کئی نسلوں کو متاثر کیا۔
ڈاکٹر نادر کے پاس متعدد بین الاقوامی اسناد تھیں، جن میں امریکن بورڈ آف سائیکائٹری اینڈ نیورولوجی اور امریکن بورڈ آف الیکٹرو ڈائیگناسٹک میڈیسن شامل ہیں۔ وہ 25 سے زائد تحقیقی مقالے شائع کر چکے تھے اور دنیا بھر میں منعقد ہونے والی کانفرنسز میں پاکستان کی نمائندگی کرتے رہے۔
تاہم، ان کے مریضوں کے لیے ان کی اصل پہچان ان کی نرمی، شفقت اور غیر متزلزل لگن تھی۔
آغا خان یونیورسٹی کی سابقہ رفیق کار، محترمہ انیلا پاشا کے مطابق:
"ڈاکٹر نادر ایک نہایت مہربان اور ذہین معالج تھے، جن کی موجودگی نے میری والدہ کو نہایت سکون دیا۔ وہ ہمیشہ وقت دیتے، دوسروں کا احترام کرتے، اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار رہتے۔ اُن کا انتقال ہمارے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔”
ڈاکٹر نادر علی سید اپنے پیچھے اہلیہ اور تین بچے چھوڑ گئے ہیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق، ان کی نمازِ جنازہ اتوار کے روز متوقع ہے کیونکہ اُن کے قریبی عزیز بیرون ملک سے کراچی پہنچ رہے ہیں۔