25 جولائی 2025
مشرق وسطیٰ کے دیرینہ تنازع میں ایک ممکنہ تاریخی تبدیلی سامنے آ گئی ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا۔ یہ خبر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دی، اور یوں فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا سب سے طاقتور یورپی ملک بن جائے گا۔
"آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ غزہ کی جنگ ختم کی جائے اور وہاں کے شہریوں کو بچایا جائے،” میکرون نے سوشل میڈیا پر لکھا۔
“ہمیں بالآخر ایک فلسطینی ریاست بنانی ہے، اسے پائیدار اور غیر فوجی بنانا ہے، اور اسرائیل کو بھی مکمل طور پر تسلیم کرتے ہوئے پورے مشرق وسطیٰ کی سلامتی میں حصہ ڈالنا ہے۔”
فرانس کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں جاری انسانی بحران اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کے خلاف عالمی برادری میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق اب تک کم از کم 142 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں یا اس کا عندیہ دے چکے ہیں — جو بدلتے عالمی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
عرب دنیا کا خیر مقدم: "تاریخی قدم” قرار
فرانس کے فیصلے کا عرب دنیا میں بھرپور خیرمقدم کیا گیا۔ سعودی عرب نے اسے "تاریخی” قرار دیتے ہوئے دیگر ممالک سے بھی اسی راہ پر چلنے کی اپیل کی۔
"یہ فیصلہ بین الاقوامی برادری کے اس متفقہ مؤقف کو مضبوط کرتا ہے کہ فلسطینی عوام کو خودمختاری اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق، مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ، آزاد ریاست کا حق حاصل ہے،” سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا۔
فلسطینی اتھارٹی نے بھی اس اعلان کو سراہا۔ صدر محمود عباس کے معاون حسین الشیخ نے اس اقدام کو فلسطینی عوام کے حقوق کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
“فرانس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت کا حامی ہے،” الشیخ نے کہا۔
اسرائیل اور امریکا کی شدید مخالفت
جیسا کہ متوقع تھا، اسرائیل نے اس فیصلے پر سخت ردعمل دیا۔ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے "دہشتگردی کا انعام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے حماس جیسے گروہوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
“فرانس ایک اور ایرانی پشت پناہ تنظیم کو قانونی حیثیت دے رہا ہے — جیسے کہ غزہ — جس کا مقصد اسرائیل کا خاتمہ ہے، نہ کہ اس کے ساتھ پرامن بقائے باہمی،” نیتن یاہو نے ایک سخت بیان میں کہا۔
امریکا نے بھی فرانس کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس فیصلے کو “غیر ذمہ دارانہ” اور “انتہا پسندوں کے بیانیے کو تقویت دینے والا” قرار دیا۔
“یہ 7 اکتوبر کے متاثرین کے چہروں پر ایک طمانچہ ہے،” روبیو نے X (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا۔
پاکستان، کینیڈا اور آسٹریلیا کا اظہارِ مذمت
دوسری جانب پاکستان نے بھی اسرائیل کے مغربی کنارے پر "غیر قانونی قبضے کو خودساختہ خودمختاری” دینے کے اعلان کی سخت مذمت کی ہے۔
“اسرائیل کے یہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا کر پائیدار امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں،” پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا۔
کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی اسرائیل کے غزہ میں اقدامات پر سخت تنقید کی۔ کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے اسرائیل کو براہ راست انسانی بحران کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے امداد کو روک کر حالات کو مزید بدتر کیا ہے۔
“یہ ایک انسانی المیہ ہے۔ ہم فوری جنگ بندی اور بین الاقوامی قانون کی مکمل پاسداری کا مطالبہ کرتے ہیں،” کارنی نے کہا۔
آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے بھی یہی موقف اختیار کیا:
“غزہ میں بچوں اور عام شہریوں کا پانی اور خوراک کے لیے مارا جانا ناقابلِ برداشت اور ناقابلِ دفاع ہے،” البانیز نے بیان دیا۔
غزہ کی ہولناک حقیقت
اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ میں غزہ اسرائیلی بمباری اور حملوں کا مرکز بنا رہا ہے۔ اب تک 58,667 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 17,400 بچے شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 139,000 سے زائد ہے اور 14,000 سے زیادہ افراد اب بھی ملبے تلے لاپتہ ہیں۔
نومبر 2024 میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ ساتھ ہی اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں نسل کشی کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔
اس وقت ایک 60 دن کی ممکنہ جنگ بندی پر بات چیت جاری ہے جس میں قیدیوں کی رہائی، جنگی کارروائیوں کی عارضی معطلی، اور امدادی سامان کی فراہمی شامل ہے — مگر یہ مذاکرات نازک موڑ پر ہیں۔
دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ
فرانس کا قدم اس عالمی بدلاؤ کی علامت ہے جو اب فلسطین کے حوالے سے رائے عامہ میں دیکھا جا رہا ہے۔ مغربی ممالک برسوں سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے سے ہچکچاتے رہے، لیکن اب جب کہ غزہ جل رہا ہے اور امن عمل تعطل کا شکار ہے، عالمی ضمیر بیدار ہوتا نظر آ رہا ہے۔
یہ فیصلہ دنیا کو دو راہوں پر کھڑا کرتا ہے: ایک طرف انصاف اور انسانی حقوق کا راستہ، اور دوسری طرف خاموشی اور مصلحت کا۔ وقت بتائے گا کہ فرانسیسی فیصلے سے کوئی حقیقی تبدیلی آتی ہے یا کشیدگی مزید بڑھتی ہے، لیکن ایک بات طے ہے — اب خاموشی جرم ہے۔
“تاریخ یاد رکھے گی کہ کون انصاف کے ساتھ کھڑا ہوا،” رام اللہ کی ایک نوجوان کارکن نے کہا، “اور کون خاموش رہا۔”