مون سون بارشیں، 24 گھنٹوں میں 8 جانیں لے گئیں: پاکستان موسمی بحران کی لپیٹ میں

25 جولائی 2025

پاکستان کے مختلف حصوں میں جاری موسلا دھار بارشوں نے انسانی جانوں کا قیمتی نقصان جاری رکھا ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 8 افراد بارشوں سے جُڑے مختلف حادثات میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار قومی آفات سے نمٹنے والے ادارے (NDMA) کی تازہ رپورٹ میں جاری کیے گئے ہیں۔

ملک کے شمالی پہاڑی سلسلوں سے لے کر جنوبی میدانی علاقوں تک، پاکستان اس وقت ایک غیر متوقع اور شدید مون سون کے نرغے میں ہے، جس نے اب تک درجنوں قیمتی جانیں نگل لی ہیں۔ پنجاب اس موسم میں اب تک کا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ بن کر سامنے آیا ہے — جہاں اموات، زخمیوں اور جانی و مالی نقصان کی شرح سب سے بلند رہی ہے۔

المناک خبریں مختلف صوبوں سے

تازہ اموات کی تفصیل ظاہر کرتی ہے کہ مون سون کی یہ لہر کتنی وسیع اور تباہ کن ثابت ہو رہی ہے:

  • خیبرپختونخوا (K-P) میں سب سے زیادہ جانی نقصان سامنے آیا، جہاں تین افراد جاں بحق جبکہ پانچ زخمی ہوئے۔ ان میں زیادہ تر حادثات دیواریں یا چھتیں گرنے اور شدید بارش کے باعث پیش آئے۔
  • اسلام آباد اور گلگت بلتستان (G-B) میں دو، دو افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے — یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ نہ دارالحکومت اس آفت سے محفوظ رہا اور نہ ہی پہاڑی علاقوں کے رہائشی۔
  • سندھ میں بھی ایک شخص جان کی بازی ہار گیا، جہاں مسلسل بارشوں نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔

کئی افراد چھت گرنے، نالے میں بہہ جانے یا بجلی کا کرنٹ لگنے جیسے حادثات کا شکار ہوئے — جو ہر سال مون سون میں پاکستان میں عام مگر المناک مناظر بن چکے ہیں۔

پنجاب: سب سے زیادہ متاثرہ خطہ

اگرچہ تازہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں کوئی نئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی، لیکن مجموعی طور پر پنجاب اس مون سون سیزن میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ گنجان آبادی، کمزور انفراسٹرکچر اور ناقص نکاسی آب کے نظام نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پنجاب کے اسپتالوں میں اس وقت کئی زخمیوں کا علاج جاری ہے — جن میں اکثریت وہ لوگ ہیں جو گرنے والی چھتوں، پھسلنے یا دیگر حادثات کا شکار ہوئے۔

تیاری کی اپیل، مگر بہت دیر ہو چکی؟

NDMA نے ملک بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں تعینات کی جا چکی ہیں، اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، بارش کے دوران گھروں میں رہیں، اور گرے ہوئے بجلی کے تاروں سے دور رہیں۔

مگر ان ہدایات کا فائدہ ان خاندانوں کو نہیں پہنچ سکا جنہوں نے اپنے پیارے کھو دیے۔ ان کے لیے یہ موسمی الرٹ ایک گزر جانے والے طوفان کی بازگشت سے زیادہ کچھ نہیں۔

آنے والے دنوں کا منظرنامہ

محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں بھی مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کے خطرات بدستور موجود ہیں۔

ملک بھر میں لوگ اب بے چینی سے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں — امید اور خوف کے اس ملے جلے جذبے کے ساتھ کہ شاید بارش تھم جائے، شاید کوئی راحت ملے، اور شاید مزید جانوں کا نقصان نہ ہو۔

More From Author

اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا فرانس: عالمی تقسیم کے بیچ ایک فیصلہ کن موڑ

کراچی کے طلبہ کو آن لائن ’آئس‘ سپلائی کرنے والا منشیات فروش گرفتار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے