اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے اجتماعی استعفوں کی مہم شروع کر دی ہے۔
جمعرات کو پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اسپیکر آفس میں 18 استعفے جمع کرائے، جس کے ساتھ ہی اپوزیشن ارکان کی مختلف پارلیمانی کمیٹیوں سے باضابطہ علیحدگی کا آغاز ہوگیا۔ گوہر علی خان نے خود بھی چار اہم کمیٹیوں — قانون و انصاف، انسانی حقوق، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی — سے استعفیٰ دیا اور دیگر ارکان کے استعفے بھی جمع کرائے۔
جن ارکان نے چیئرمین شپ یا رکنیت سے استعفیٰ دیا ان میں جنید اکبر، صاحبزادہ سیف اللہ، محبوب شاہ، شہزادہ گستاسپ، علی جڈون، مجاہد علی، ملک انور تاج، فضل محمد خان، ساجد خان، ارباب عامر ایوب، آصف خان، شیخ وقاص اکرم، ارشد ساہی، ملک عامر ڈوگر، شبیر علی قریشی اور اویس جھکڑ شامل ہیں۔ جبکہ سینئر رہنماؤں شہریار آفریدی، مبین عارف جٹ، اسامہ میلہ اور شیر افضل مروت نے بھی استعفے دیے۔ شہریار آفریدی نے دو کمیٹیوں سے استعفیٰ دیا، جبکہ مبین جٹ نے تجارت، خزانہ اور صنعت کی کمیٹیوں کی رکنیت چھوڑ دی۔
اس سے قبل، جنید اکبر پہلے ہی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہو چکے تھے، جبکہ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے پی اے سی اور انفارمیشن کمیٹی دونوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
اپنے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے وقاص اکرم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر لکھا:
"اپنے قائد عمران خان کی ہدایت پر آج صبح میں نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور انفارمیشن کمیٹی سے استعفیٰ جمع کرا دیا ہے۔”
اسی طرح ملک عامر ڈوگر نے بھی ایک بیان میں عمران خان کے ساتھ اپنی وابستگی دہراتے ہوئے کہا:
"میں اپنے قائد عمران خان کی ہدایت کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی ہو رہا ہوں۔ میری سیاست کا واحد مقصد عمران خان کے مشن کو آگے بڑھانا ہے — پاکستان کی حقیقی آزادی اور عوام کی خدمت۔”
پارٹی ذرائع کے مطابق یہ استعفے قیادت سے مشاورت کے بعد اجتماعی طور پر قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائے گئے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے 9 مئی کے واقعات سے منسلک مقدمات میں کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کو نااہل قرار دیا ہے۔ مبصرین کے خیال میں اجتماعی استعفے پارلیمانی کمیٹیوں کی کارکردگی پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں اور ان کے کام میں واضح خلا پیدا ہو سکتا ہے۔