اسلام آباد:
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ جمعرات کو کابل نے پاکستان کے سفیر کو وزارتِ خارجہ میں طلب کرکے ان مبینہ فضائی حملوں پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا جو طالبان حکام کے مطابق ننگرہار اور خوست میں کیے گئے۔
افغان حکام کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ہونے والے ان حملوں میں تین شہری جاں بحق اور سات زخمی ہوئے۔ افغان وزارتِ خارجہ نے اپنے احتجاجی مراسلے میں الزام لگایا کہ پاکستان نے افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرحدی علاقوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ وزارت نے ان کارروائیوں کو “افغانستان کی علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے “اشتعال انگیز اقدامات” کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
طالبان حکومت نے واضح کیا کہ افغانستان کی خودمختاری ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔ وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا، “اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں لازمی طور پر نتائج کی طرف لے جائیں گی۔”
ابھی تک پاکستان کی جانب سے نہ تو کابل میں سفیر کی طلبی پر کوئی باضابطہ ردعمل دیا گیا ہے اور نہ ہی مبینہ فضائی حملوں پر۔
ننگرہار کے مقامی حکام نے دعویٰ کیا کہ دو ڈرون حملے ضلع شینوار میں ایک مکان پر کیے گئے۔ صوبے کے نائب گورنر، مولوی عزیز اللہ مصطفیٰ، نے کہا کہ افغان حکومت خطے میں امن و استحکام اور ہمسایہ ممالک سے متوازن تعلقات کی خواہاں ہے، لیکن ایسے اقدامات خطے کے استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات دوبارہ سرحد پار دہشت گردی کے معاملے پر کشیدگی کا شکار ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہے ہیں۔ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے، جبکہ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں صرف دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف ہیں جو پاکستان میں بڑھتے ہوئے حملوں کے ذمہ دار ہیں۔
رواں سال کے اوائل میں تعلقات اس وقت مزید بگڑ گئے تھے جب پاکستان نے دہشت گردی میں اضافے کے بعد اہم سرحدی گزرگاہیں بند کر دیں۔ جواباً افغانستان نے تجارت اور آمد و رفت پر پابندیاں عائد کر دیں، جس سے دونوں ملکوں کے نازک تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہو گئے۔
حالیہ سفارتی کوششیں بھی خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکیں۔ رواں ماہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کابل گئے تھے جہاں انہوں نے افغان اور چینی ہم منصبوں کے ساتھ سہ فریقی اجلاس میں شرکت کی۔ طالبان کے عبوری وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات میں ڈار نے ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں کے مسئلے پر سخت تشویش ظاہر کی۔
امیر خان متقی کا اسلام آباد کا دورہ طے تھا مگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان کے سفر کی اجازت نہ دی کیونکہ امریکہ نے اس پر اعتراض اٹھایا۔ اگرچہ دونوں ملک اس دورے کو دوبارہ شیڈول کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن تازہ کشیدگی کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ متقی جلد پاکستان کا دورہ کر پائیں گے یا نہیں۔