اہم ایف بی آر مقدمات زیر التوا، وکلا نے ملاقات کے تاثر پر اعتراض اٹھا دیا
اسلام آباد:
چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) جسٹس یحییٰ آفریدی اور وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی حالیہ آمنے سامنے ملاقات نے قانونی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی ماہرین قانون ملاقات کے وقت اور اس کے تاثر پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
سرکاری بیان کے مطابق یہ ملاقات — جس کی تصویر بھی جاری کی گئی — میں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان ’’قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ‘‘ کے لیے مشترکہ کوششوں پر بات چیت ہوئی۔ تاہم اٹارنی جنرل پاکستان منصور اعوان کی غیر موجودگی اور ملاقات کی باضابطہ تشہیر نے اس پر بحث کو مزید ہوا دی ہے، خاص طور پر جب وزارتِ خزانہ کے ماتحت ایف بی آر سپریم کورٹ کے سب سے بڑے فریقین میں سے ایک ہے۔
اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آفریدی اور اورنگزیب زمانہ طالب علمی کے ساتھی رہ چکے ہیں، اس لیے ملاقات کو ذاتی تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مگر کئی سینئر وکلا کے نزدیک، معاملہ محض دوستی کا نہیں بلکہ تاثر کا ہے۔ ایک سینئر وکیل نے کہا، ’’جب ایف بی آر کے سیکڑوں مقدمات سپریم کورٹ میں زیر التوا ہوں تو نیک نیتی سے کی گئی ملاقات بھی غیر جانبداری پر سوال کھڑے کر سکتی ہے۔‘‘
ایف بی آر تنازعات زیر بحث
ملاقات کا وقت اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ گزشتہ ماہ ہی چیف جسٹس آفریدی کی سربراہی میں ایک بینچ نے متبادل تنازعات کے حل کی کمیٹیوں (ADRCs) میں زیر التوا تمام مقدمات کی کارروائی روکنے کا حکم دیا تھا۔ یہ کمیٹیاں ایف بی آر کے تحت ٹیکس تنازعات سنبھالتی ہیں۔ عدالت نے ان کمیٹیوں کے ارکان کی تقرری کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ حتمی پالیسی سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز سے رائے لی جائے۔ یہ کیس اب 8 ستمبر کو دوبارہ سنا جائے گا۔
سرکاری اداروں (SOEs) کی نمائندگی کرنے والے کئی وکلا ADRC نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک وکیل نے الزام لگایا کہ یہ کمیٹیاں منافع بخش سرکاری اداروں کو ’’کچل‘‘ رہی ہیں، اور صرف ریونیو اہداف پورے کرنے کے لیے جون میں اربوں روپے کے ٹیکس بغیر قانونی نوٹس کے وصول کیے گئے۔ دیگر وکلا کا کہنا ہے کہ ADRC کو اپنی ساکھ کے لیے ایف بی آر کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا ہوگا۔
عدلیہ کی آزادی پر تشویش
26ویں آئینی ترمیم کے بعد سے قانونی ماہرین عدلیہ پر انتظامیہ کے بڑھتے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض ٹیکس ماہرین کا دعویٰ ہے کہ اعلیٰ عدالتیں ایف بی آر کے خلاف اپیل کرنے والوں کو خاطر خواہ ریلیف نہیں دے رہیں۔ مثال کے طور پر، سندھ ہائی کورٹ نے ٹیکس اتھارٹی کے حق میں سینکڑوں فیصلے سنائے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ میں اکثر ریونیو سے متعلق مقدمات متعلقہ مہارت رکھنے والے ججوں کو نہیں دیے جاتے۔
اسی پس منظر میں، چیف جسٹس اور وزیر خزانہ کی ملاقات نے کئی وکلا کو بے چین کر دیا ہے، جنہیں خدشہ ہے کہ یہ بڑے ریونیو کیسز کے فیصلے کے منتظر فریقین کو غلط پیغام دے سکتی ہے۔ کراچی کے ایک وکیل نے کہا، ’’چاہے کوئی بے ضابطگی نہ ہو، مگر تاثر کی بھی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ عدلیہ کو نہ صرف آزاد رہنا چاہیے بلکہ آزاد دکھائی بھی دینا چاہیے۔‘‘ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ چیف جسٹس آفریدی نے حالیہ دنوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے، جن میں پی ٹی آئی کے عمر ایوب بھی شامل ہیں۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ وسیع تر شمولیت کا عکاس ہے، لیکن ناقدین سمجھتے ہیں کہ بعض ملاقاتیں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان لکیر کو دھندلا سکتی ہیں