پاکستان کا مکہ اور مدینہ کے تحفظ کے عزم کی پُرزور تجدید

اسلام آباد: وزیرِاعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز اسلام کے مقدس ترین شہروں مکہ اور مدینہ کے دفاع اور تقدس کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “پاکستان ہمیشہ مکہ اور مدینہ کا محافظ رہے گا۔”

اسلام آباد میں سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ ان مقدس مقامات سے تمام مسلمانوں کا روحانی تعلق پاکستان اور سعودی عرب کو ایمان، اخوت اور محبت کے اٹوٹ رشتے میں باندھتا ہے۔

شہباز شریف نے کہا، “پاکستان ہمیشہ مکہ اور مدینہ کا محافظ رہے گا۔ ہر مسلمان ان مقدس شہروں کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔” انہوں نے اس موقع پر جذباتی انداز میں اس عقیدت اور احترام کو اجاگر کیا جو مسلمانوں کے دلوں میں ان مقدس مقامات کے لیے پایا جاتا ہے۔

وزیرِاعظم نے حال ہی میں طے پانے والے پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کو صرف ایک تزویراتی قدم نہیں بلکہ دو برادر ممالک کے درمیان “ایمان، اعتماد اور دوستی کی علامت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ “پاکستان اور سعودی عرب ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ نیا دفاعی معاہدہ ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرے گا اور باہمی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔”

شہباز شریف نے دفاع کے علاوہ تجارت، سرمایہ کاری، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق، “پاکستان اور سعودی عرب مل کر اپنے مشترکہ خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو اشتراکِ عمل کے ذریعے خوشحال مستقبل کی راہیں ہموار کرنی چاہییں۔

وزیرِاعظم نے پاکستان کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سعودی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان خطے میں معاشی انضمام اور پائیدار ترقی کے لیے نیک شگون ہے۔

تقریب سے سعودی وفد کے سربراہ شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے بھی خطاب کیا اور بتایا کہ ان کا دورہ پاکستان، پاک–سعودی مشترکہ بزنس کونسل کے اجلاس میں شرکت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مملکت کے تاجر پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔

شہزادہ منصور نے کہا کہ سعودی عرب کا ویژن 2030 اور پاکستان کی سرمایہ کاری پالیسی دونوں ممالک کو تعاون کے نئے راستے فراہم کر رہے ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ مذہبی، ثقافتی اور دفاعی تعلقات کئی دہائیوں سے قائم ہیں۔ دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی امن اور استحکام کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔

More From Author

کوٹری نارتھ بلاک میں پی پی ایل کی گیس کی نئی دریافت

کراچی ریلوے اسٹیشن لاہور سے کئی گنا بڑا اور جدید بنایا جا رہا ہے، وزیر ریلوے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے