پاکستان کا دعویٰ، افغان سرحد کے قریب چار روزہ آپریشن میں 50 دہشت گرد ہلاک

اسلام آباد – پاکستان کی فوج نے منگل کو اعلان کیا کہ سیکیورٹی فورسز نے افغانستان سے متصل صوبہ بلوچستان کے شورش زدہ علاقے میں چار روزہ آپریشن کے دوران کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے 50 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، 7 سے 9 اگست کے دوران ضلع ژوب کے سرحدی علاقے سمبازہ میں کارروائی کے نتیجے میں 47 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ 10 اگست کی شب سرحدی علاقوں میں کلیئرنس آپریشن کے دوران مزید تین دہشت گرد ہلاک ہوئے، یوں کل تعداد 50 تک پہنچ گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام دہشت گرد “بھارت کے حمایت یافتہ” اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ارکان تھے، جو بنیادی طور پر خیبر پختونخوا میں سرگرم ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے ان کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ “سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے تحفظ اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔”

واضح رہے کہ نومبر 2022 میں کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ کمزور جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پاکستان کے مغربی سرحدی علاقوں میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ حالیہ دراندازی بلوچستان میں ہوئی — جو پہلے ہی علیحدگی پسند شورش کا شکار ہے — تاہم ٹی ٹی پی زیادہ تر خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز، پولیس اور عام شہریوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔

پاکستان نے متعدد بار الزام عائد کیا ہے کہ بھارت دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور افغانستان اپنی سرزمین کو سرحد پار حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ دونوں ممالک، بھارت اور افغانستان، ان الزامات کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی رواں سال اپریل میں اس وقت بڑھ گئی جب 22 اپریل کو بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ایک خونی حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، تاہم اسلام آباد نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

یہ واقعہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان دہائیوں کے بدترین تصادم کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ 6 سے 9 مئی تک دونوں ممالک کے درمیان میزائل حملے، ڈرون آپریشنز اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا، جس میں 70 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بالآخر 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے بعد فریقین کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی، کیونکہ خدشہ تھا کہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے

More From Author

پاکستان کا امریکا کے فیصلے کا خیرمقدم، بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کالعدم قرار

کراچی ٹریفک پولیس کی آزادیٔ دن کی تقریب کے لیے پارکنگ اور روٹ پلان کا اعلان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے