اسلام آباد – ستمبر 2025: دفتر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں ہونے والا دفاعی معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا رخ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ، سفیر شفقات علی خان نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے طویل عرصے سے قائم دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے بقول، "پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔”
یہ تاریخی معاہدہ 17 ستمبر کو ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے درمیان طے پایا۔ وزیرِاعظم ہاؤس کے مطابق، معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔
سفیر شفقات علی خان نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات عقیدت، بھائی چارے اور اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ہیں، جو 1960 کی دہائی سے قائم ہیں۔ ان کے مطابق، "یہ معاہدہ ان تعلقات کو رسمی شکل دیتا ہے اور انہیں مزید مضبوط بناتا ہے۔ اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو فروغ دینا ہے۔”
وزیرِاعظم کے دورۂ سعودی عرب کے دوران اعلیٰ سطحی اجلاس اور وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی، جس میں دونوں ملکوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
او آئی سی کا اسرائیلی جارحیت کی مذمت کا اعلان
ترجمان دفتر خارجہ نے دوحہ میں ہونے والے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کی تفصیلات بھی بتائیں، جس میں 50 سے زائد اسلامی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسرائیل کی جانب سے قطر پر حالیہ حملوں اور فلسطینیوں کے خلاف جاری جارحیت پر غور کیا گیا۔
شفقات علی خان نے کہا کہ اسلامی وزرائے خارجہ نے متفقہ طور پر ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا، جس میں اسرائیلی اقدامات کو "غیر قانونی اور بلا جواز” قرار دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی سخت مذمت کی اور قطر کی ثالثی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے یہ مسئلہ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھی اٹھایا ہے اور فوری بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ او آئی سی کے اعلامیے میں اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر جواب دہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا گیا، فلسطینی عوام پر مظالم کی مذمت کی گئی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔