انڈس موٹرز کا منافع 53 فیصد بڑھ گیا، فی حصص 176 روپے ڈویڈنڈ کا اعلان

کراچی – انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی)، جو پاکستان میں ٹویوٹا گاڑیاں تیار کرتی ہے، نے مالی سال 2025 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 23 ارب روپے کا خالص منافع کمایا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی نے فی حصص 176 روپے نقد ڈویڈنڈ دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار انٹر مارکیٹ سیکیورٹیز کی رپورٹ میں سامنے آئے۔

کمپنی کی آمدن 41 فیصد بڑھ کر 215 ارب روپے تک پہنچ گئی، جس کی بنیادی وجہ 61 فیصد اضافے کے ساتھ 33 ہزار 393 گاڑیوں کی فروخت رہی، جو مجموعی انڈسٹری کے 40 فیصد ترقی کے مقابلے میں نمایاں ہے۔ یاریس کا نیا ماڈل فروخت میں سب سے نمایاں رہا، جبکہ کرولا اور کرولا کراس نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب ہیلوکس اور فورچیونر کی فروخت میں 83 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں زیادہ تر حصہ ادارہ جاتی آرڈرز کا تھا۔

کمپنی کے مجموعی منافع کے مارجن بھی بہتر ہو کر 14.5 فیصد پر پہنچ گئے، جو گزشتہ سال 12.7 فیصد تھے۔ اس بہتری کا تعلق زیادہ فروخت اور بہتر زرِمبادلہ کے حالات سے جوڑا گیا۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال کے دوران پاکستان میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت 40 فیصد بڑھ کر 2 لاکھ 23 ہزار 799 یونٹس تک جا پہنچی۔ کمپنی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر سیلابی نقصانات نہ ہوتے تو یہ تعداد تین لاکھ یونٹس سے بھی تجاوز کر سکتی تھی۔ سی کے ڈی یونٹس کی فروخت 49 فیصد بڑھ کر ایک لاکھ 79 ہزار 424 یونٹس رہی، جبکہ استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں کی فروخت میں بھی 9 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حصہ مجموعی مارکیٹ میں 18 فیصد رہا۔

انڈس موٹر کے مطابق یاریس، کرولا اور کراس کے پرزہ جات میں 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ ہیلوکس اور فورچیونر کے پارٹس کی مقامی تیاری 40 سے 45 فیصد تک ہے۔ تاہم انجن اور گیئر باکس اب بھی مکمل طور پر درآمد کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کی مقامی تیاری کے لیے سالانہ پیداوار کم از کم دس لاکھ یونٹس تک پہنچنا ضروری ہے۔

آئی ایم سی نے مزید بتایا کہ وہ نئے ماڈلز کی لانچ کے لیے اپنی اصل کمپنی سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا کہ مارکیٹ میں صارفین کی ترجیحات تیزی سے سیڈان کاروں سے ایس یو ویز کی جانب منتقل ہو رہی ہیں۔

پالیسی کے محاذ پر کمپنی نے حکومت کو خبردار کیا کہ کسٹمز ڈیوٹی کو آئندہ پانچ سال میں بتدریج 15 فیصد تک لانے کی تجویز مقامی صنعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور اس سے درآمدات میں اضافہ ہوگا۔ کمپنی نے تسلیم کیا کہ نئی کمپنیاں مارکیٹ شیئر کو متاثر کریں گی، تاہم اس کے باوجود پرانی اور مضبوط برانڈز ترقی کا سلسلہ جاری رکھیں گی، اگرچہ رفتار کچھ سست ہو سکتی ہے۔

انٹر مارکیٹ سیکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں انڈس موٹر کے شیئر پر “خریدیں” (Buy) کی ریٹنگ برقرار رکھی ہے اور ہدفی قیمت 2 ہزار 650 روپے فی حصص مقرر کی ہے، جو موجودہ سطح سے 18 فیصد زیادہ ہے۔ رپورٹ میں کمپنی کی مضبوط برانڈ لائلٹی اور متوازن مالیاتی حیثیت کو اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔

More From Author

پاکستان-سعودی دفاعی معاہدہ امن کے لیے ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں: ترجمان دفتر خارجہ

وزیرِاعظم نے سپریم کورٹ کو اپنے ترقیاتی منصوبے منظور کرنے کا اختیار دے دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے