پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں بہتری کا عندیہ

اقوام متحدہ کی دو ریاستی حل کانفرنس کے موقع پر اسحاق ڈار اور بنگلہ دیشی مشیر کی ملاقات

اسلام آباد – 29 جولائی 2025:
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی سطح پر گرم جوشی کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ پیش رفت اقوام متحدہ میں دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے مشیر برائے خارجہ امور توحید حسین کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔

یہ اکتوبر 2024 کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان چوتھی اعلیٰ سطحی ملاقات تھی، جو برسوں کی سرد مہری کے بعد بڑھتے ہوئے سفارتی روابط کا واضح اشارہ ہے۔

دفترِ خارجہ سے جاری بیان کے مطابق، ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا اور سیاسی، تجارتی، ثقافتی اور عوامی روابط کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ ساتھ ہی آئندہ مہینوں میں اعلیٰ سطحی دوروں کی راہ ہموار کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا گیا۔

ملاقات کے دوران اسحاق ڈار اور توحید حسین نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش ظاہر کی اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اقوام متحدہ کی موجودہ کانفرنس سے نتیجہ خیز اقدامات سامنے آئیں گے۔

مبصرین کے مطابق، یہ ملاقات جنوبی ایشیا میں بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے باب کا آغاز ظاہر کرتی ہے۔ اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد، جو ماضی میں پاکستان مخالف سخت مؤقف کے لیے مشہور تھی، بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے تعلقات میں نرمی اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں ڈھاکہ کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں اور درآمدات پر عائد پابندیاں ہٹائی گئی ہیں، جسے دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلنے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ڈھاکہ کا دورہ کیا جہاں اُن کی ملاقات بنگلہ دیشی وزیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) جہانگیر عالم چوہدری سے ہوئی۔ دونوں ممالک نے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزے کے بغیر داخلے کی سہولت دی جائے گی — جسے مستقبل میں تجارتی و سرکاری روابط میں نرمی کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب ایک طرف سارک جیسی علاقائی تنظیمیں غیر مؤثر ہوتی جا رہی ہیں اور دوسری جانب چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے، تو پاکستان اور بنگلہ دیش حقیقت پسندانہ اور باہمی مفادات پر مبنی تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں، جو ماضی کے تلخ تجربات سے آگے نکلنے کا اشارہ ہے۔ یہ سفارتی پیش رفت نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کی غماز ہے بلکہ پاکستان کی اس وسیع حکمت عملی کا بھی حصہ ہے جس کے تحت وہ ہمسایہ ممالک سے دوبارہ مضبوط روابط قائم کرنا، مسلم دنیا میں یکجہتی کو فروغ دینا، اور خطے میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے

More From Author

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا لاہور میں ’ویسٹ ٹو ویلیو‘ بائیو گیس منصوبے کا افتتاح

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: طلاق یافتہ بیٹیاں والد کی پنشن کی حقدار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے