ٹرمپ کا شامی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ، تعمیر نو کی راہ ہموار

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تاریخی اقدام میں شام پر عائد وسیع پیمانے پر اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کے لیے صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ صدر بشار الاسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد شام کی اقتصادی اور سفارتی بحالی کی راہیں کھولنے کے لیے اہم سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے پیر کے روز تصدیق کی کہ ٹرمپ کے اس فیصلے کے تحت 518 شامی افراد اور اداروں کے نام پابندیوں کی فہرست سے نکال دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام اُن اداروں اور افراد کو ریلیف دینے کے لیے ہے جو شام کی ترقی، حکومتی امور اور معاشرتی ڈھانچے کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری بیان میں اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے "طویل انتظار کے بعد حاصل ہونے والی پیش رفت” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام معیشت کی بحالی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے گا اور شام کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ دوبارہ جوڑنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

شام پر پابندیاں 2011ء میں خانہ جنگی کے آغاز سے پہلے بھی موجود تھیں، لیکن انسانی حقوق کی پامالیوں اور مبینہ جنگی جرائم کے بعد ان میں مزید سختی کی گئی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں نے انسانی امداد اور تعمیر نو کی کوششوں کو بری طرح متاثر کیا، جس سے شامی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔

ٹرمپ نے یہ وعدہ مئی میں اپنے مشرق وسطیٰ کے دورے کے دوران کیا تھا کہ امریکہ شام میں استحکام اور اتحاد کے لیے تعاون کرے گا۔ انہوں نے پیر کو جاری بیان میں کہا، "ایک متحد شام جو دہشت گرد گروہوں کے لیے پناہ گاہ نہ ہو اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کرے، وہ خطے میں امن اور خوشحالی کا ضامن ہو گا۔”

تاہم امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تمام پابندیاں ختم نہیں کی جا رہیں۔ بشار الاسد، ان کے قریبی ساتھیوں، داعش، ایران نواز ملیشیاؤں اور القاعدہ سے منسلک گروہوں پر عائد پابندیاں برقرار رہیں گی۔

نئے حکم نامے کے تحت، ٹرمپ نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو ہدایت دی ہے کہ وہ عبوری شامی صدر احمد الشارع کو "عالمی دہشت گردوں” کی فہرست سے نکالنے پر نظرثانی کریں۔ الشارع، جنہیں ماضی میں ابو محمد الجولانی کے نام سے جانا جاتا تھا، کبھی القاعدہ سے وابستہ النصرہ فرنٹ کے رہنما تھے، لیکن 2016ء میں انہوں نے اس گروہ سے لاتعلقی اختیار کر لی اور بعد ازاں حیات تحریر الشام (HTS) کی قیادت سنبھالی۔

دسمبر 2024ء میں بشار الاسد کے خلاف ایک اچانک کارروائی کی قیادت کرتے ہوئے، الشارع عبوری حکومت کے عملی سربراہ کے طور پر سامنے آئے۔ رواں سال مئی میں سعودی عرب میں ٹرمپ سے ملاقات کے دوران، سابق امریکی صدر نے الشارع کو "سخت مزاج” اور "دور اندیش” رہنما قرار دیا۔

اگرچہ الشارع نے جامع حکمرانی اور قومی مفاہمت کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں الاسد کے حامیوں، خاص طور پر علوی اقلیت، کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی اطلاعات نے انسانی حقوق کے علمبرداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

اس کے باوجود، ٹرمپ کا یہ فیصلہ کئی حلقوں میں شام کی تقدیر بدلنے والے قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹ رکن الہان عمر اور ریپبلکن رکن انا پالینا لونا پہلے ہی ایسی قانون سازی پیش کر چکی ہیں جس کا مقصد شام پر پابندیوں کا خاتمہ اور طویل مدتی امداد فراہم کرنا ہے۔ اگرچہ اس اقدام کے بعد بھی کئی سوالات باقی ہیں — جیسے کہ اسرائیل کی شامی علاقوں میں فوجی کارروائیاں، علاقائی کشیدگی، اور انتہا پسند گروہوں کا اثر و رسوخ — مگر ایک دہائی سے زائد عرصے بعد پہلی بار شام کی عالمی بحالی اور اقتصادی انضمام کے امکانات روشن ہوتے دکھائی دے رہے ہیں

More From Author

چہرہ ڈھانپنے والے لباس پر پابندی: قازقستان نے قومی شناخت کے نام پر نیا قانون نافذ کر دیا

کراچی میں ڈینگی، ملیریا اور چکن گنیا کے بڑھتے کیسز نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے