وزیراعظم کے دورۂ چین سے قبل حکومت نے 100 ارب روپے کے چینی واجبات ادا کردیے

قرضے کم ہوکر 300 ارب روپے سے کچھ اوپر رہ گئے، بیجنگ کے خدشات دور کرنے کی کوشش

اسلام آباد – حکومتِ پاکستان نے وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورۂ چین سے چند روز قبل چینی بجلی گھروں کو 100 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ادائیگی پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم پاور پراجیکٹس کے واجبات کی مد میں کی گئی ہے، جو رواں برس جون تک بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گئے تھے۔

وزارتِ خزانہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ ادائیگیاں پاور سیکٹر سبسڈی کے موجودہ بجٹ سے کی گئی ہیں جبکہ مزید 8 ارب روپے معمول کے فنڈز کے تحت کلیئر کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کے بعد چینی پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے ذمے واجبات میں تقریباً ایک چوتھائی کمی واقع ہوگی اور بقایا رقم گھٹ کر 300 ارب روپے سے کچھ زیادہ رہ جائے گی۔

یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب وزیرِاعظم شہباز شریف اس ہفتے چین میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ وہ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے منعقدہ سرمایہ کاری کانفرنس میں بھی شریک ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم نے ذاتی طور پر وزارتِ خزانہ کو ہدایت دی تھی کہ 25 اگست تک یہ ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اگرچہ پاکستان گزشتہ برسوں میں مسلسل ادائیگیاں کرتا رہا ہے، لیکن واجبات میں اضافہ برقرار رہا۔ 2017 سے اب تک ملک 18 چینی پاور پراجیکٹس کو تقریباً 5.1 کھرب روپے ادا کر چکا ہے، جو کل بلوں (بشمول سود) کا 92 فیصد بنتا ہے۔ حکام کے بقول اصل واجب الادا پرنسپل 300 ارب روپے سے کم ہے، جبکہ باقی رقم زیادہ تر تاخیر سے ادائیگی پر عائد سرچارج پر مشتمل ہے۔

نئی ادائیگیوں کے سب سے بڑے حصے داروں میں ساہیوال، حب اور پورٹ قاسم کے کوئلے سے چلنے والے پاور پراجیکٹس شامل ہیں۔ پاکستان کو اب بھی ساہیوال پلانٹ کو 87 ارب روپے، حب کو 69 ارب روپے اور پورٹ قاسم کو 85.5 ارب روپے ادا کرنے ہیں، جبکہ تھر کول منصوبے کے ذمے واجبات 55.5 ارب روپے ہیں۔

حکومت مقامی کمرشل بینکوں سے تقریباً 1.3 کھرب روپے کے نئے قرضوں کے حصول پر بھی بات چیت کر رہی ہے تاکہ پاور سیکٹر کے گردشی قرضے — خواہ وہ سرکاری اداروں، نجی کمپنیوں یا چینی پروڈیوسرز کو واجب الادا ہوں — کو ریٹائر کیا جا سکے، تاہم یہ معاہدہ تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔

واجبات کی ادائیگی میں تاخیر نے ماضی میں بارہا سی پیک کے فریم ورک کو دباؤ میں ڈالا ہے۔ 2015 کے سی پیک انرجی معاہدے کے تحت پاکستان پر لازم تھا کہ وہ ماہانہ بلوں کے 21 فیصد کے مساوی ایک ریوالونگ فنڈ قائم کرے، مگر اس پر عملدرآمد ہمیشہ کمزور رہا۔ بالآخر 2022 میں اسٹیٹ بینک میں ریوالونگ اکاؤنٹ قائم کیا گیا، لیکن نکالنے کی پابندیوں نے ادائیگی کے بحران کو مزید بڑھا دیا۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ رواں برس جون تک گردشی قرضے میں 800 ارب روپے کی کمی لائی گئی ہے، تاہم ماہرین اس بہتری کو عارضی قرار دیتے ہیں۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق یہ کمی زیادہ تر 801 ارب روپے کی بجٹ سبسڈی کے ایک وقتی انجیکشن کے باعث ہوئی ہے، ورنہ حقیقی طور پر گردشی قرضہ تقریباً 379 ارب روپے اور بڑھ جاتا۔ چین میں سرمایہ کاری کے لیے نئی پیشکش کرنے سے قبل حکومت کی یہ ادائیگی محض مالی اقدام ہی نہیں بلکہ ایک سفارتی اشارہ بھی ہے، جس کا مقصد بیجنگ کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ اسلام آباد سی پیک کے تحت توانائی منصوبوں کے وعدوں کی پاسداری کے لیے سنجیدہ ہے

More From Author

 کراچی انٹر کے امتحانات کے نتائج: کامیابی کا تناسب 55.59 فیصد

حکومت کا یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے لیے 27 ارب روپے کے ریسکیو پیکج کا منصوبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے