وزیراعظم شہباز شریف کی بھارت کو مذاکرات کی پیشکش، برطانیہ کے کردار کی ستائش

اسلام آباد | 24 جولائی 2025

جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے سائے کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش کے طور پر، وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو تمام دیرینہ مسائل پر "بامعنی مذاکرات” کی ایک بار پھر پیشکش کی ہے — جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے سنجیدگی سے تیار ہے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔

یہ بات وزیراعظم نے بدھ کے روز وزیراعظم ہاؤس میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے ملاقات کے دوران کہی۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، ملاقات میں دوطرفہ امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں پاک بھارت تعلقات کی حساس نوعیت بھی زیرِ بحث آئی۔

برطانیہ کے خاموش لیکن مؤثر کردار کی ستائش

ملاقات کے دوران، وزیراعظم نے پوسٹ پہلگام بحران کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں برطانیہ کے تعمیری کردار پر شکریہ ادا کیا۔ اس بحران نے ایک بار پھر خطے کو جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کیا تھا۔

اگرچہ برطانوی مداخلت کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں، لیکن اسلام آباد کی جانب سے لندن کی کوششوں کو کھلے دل سے سراہا گیا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا، "برطانیہ نے ہمیشہ خطے میں امن و مکالمے کو فروغ دینے میں تعمیری کردار ادا کیا ہے۔”

برطانوی پاکستانیوں کے لیے خوشخبری

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) کی پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا، جو کئی سال کی معطلی کے بعد ممکن ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے کسی ریلیف سے کم نہیں، جو سفر میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ انہوں نے اس پیش رفت میں ہائی کمشنر جین میریٹ کے کردار کو "قابلِ تحسین اور کلیدی” قرار دیا۔

خطے کے بدلتے حالات پر گفتگو

ذرائع کے مطابق ملاقات میں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی۔ برطانوی ہائی کمشنر نے برطانیہ کا نقطۂ نظر پیش کیا اور وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ ان کی حالیہ لندن ملاقاتوں میں پاک-برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے کہا، "برطانیہ تعلیم، تجارت، سلامتی اور عوامی روابط کے شعبوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔”

اقتصادی بہتری پر اعتماد کا اظہار

اس ملاقات میں برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کی معیشت میں حالیہ بہتری کو سراہا اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اہم معاشی اشاریوں میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور دنیا پاکستان کی سنجیدہ اصلاحاتی کوششوں کو تسلیم کر رہی ہے۔

نجکاری عمل میں اصلاحات کی ہدایت

اسی دن بعد میں، وزیراعظم نے ریاستی اداروں کی نجکاری کے عمل پر ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں انہوں نے نجکاری کمیشن کو مکمل قانونی خودمختاری دینے کی ہدایت کی تاکہ سرخ فیتے اور غیر ضروری مداخلت کا خاتمہ ہو سکے۔

وزیراعظم نے کہا، "نجکاری صرف اثاثے فروخت کرنے کا عمل نہیں، بلکہ اصلاح اور اداروں کی بحالی کا موقع ہے۔ اور اس کے لیے اداروں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہے۔”

کیا برف پگھلے گی؟

جب کہ پاکستان اپنی سفارتی کھڑکیاں کھولنے کو تیار ہے — اور معیشت بھی آہستہ آہستہ بہتری کی جانب گامزن ہے — یہ واضح ہو رہا ہے کہ حکومت شہباز شریف نہ صرف ایک امن پسند پڑوسی کے طور پر سامنے آنا چاہتی ہے بلکہ داخلی اصلاحات کی داعی بھی ہے۔

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ بھارت اس تازہ ترین مذاکراتی پیشکش کا کیا جواب دیتا ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے: اسلام آباد بات چیت کے لیے تیار ہے، اور پہل بھی کر رہا ہے۔
یہ خطے کے لیے ایک نادر موقع ہے — اگر اسے ضائع نہ کیا جائے۔

More From Author

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ویزا پالیسی میں نرمی — دوطرفہ تعلقات میں نئی پیش رفت

آئی ایم ایف کا پاکستان سے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے پر ٹھوس اور وقت-bound منصوبہ پیش کرنے کا مطالبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے