اسلام آباد/دوحہ:
اسرائیل کی جانب سے قطر پر حملے کے بعد مسلم دنیا سمیت عالمی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین اور قطری خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے دوحہ کے رہائشی علاقے پر بمباری کو ’’انتہائی سنگین اور غیرقانونی اقدام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے امیرِ قطر، شاہی خاندان اور قطری عوام سے مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نہ صرف قطر کی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی دیرینہ دشمنی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ نے بھی ایک سخت بیان میں اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام کھلے عام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کو ٹیلی فون کر کے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی اور دوحہ کے تحفظ و دفاع کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب ہر صورت میں قطر کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔‘‘
متحدہ عرب امارات نے بھی قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملہ خلیجی ممالک کی اجتماعی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ سینئر اماراتی مشیر انور قرقاش نے خبردار کیا کہ ابو ظہبی دوحہ کے ساتھ بھرپور انداز میں کھڑا ہے۔ سلطنت عمان نے بھی اس کارروائی کو ’’سنگین جرم‘‘ اور ’’ریاستی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے بھی اسرائیل پر شدید تنقید کی۔ کویت نے فوری طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ اردن نے کہا کہ یہ جارحیت قطری عوام کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ عراق نے حملے کو ’’بزدلانہ عمل‘‘ قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ مصر نے کہا کہ اسرائیلی کارروائی عالمی امن کے لیے خطرہ اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ مالدیپ کے صدر نے بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر قطر کی علاقائی سالمیت پامال کرنے کا الزام لگایا۔
بین الاقوامی اداروں نے بھی اس واقعے پر سخت ردعمل دیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیلی حملے کو ’’خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی‘‘ قرار دیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ فوری طور پر مستقل جنگ بندی کی جانب بڑھیں۔
ادھر قطری وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رہائشی عمارتوں پر حملہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ قطری شہریوں اور مقیم افراد کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔ وزارت کے مطابق سکیورٹی فورسز اور سول ڈیفنس نے متاثرہ علاقوں میں فوری کارروائی شروع کر دی ہے، جبکہ قطر نے واضح کر دیا ہے کہ اسرائیل کی ’’غیرذمہ دارانہ حرکتیں اور خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوششیں‘‘ کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ خلیج میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید گہرا کر سکتا ہے اور علاقائی سطح پر ایک نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔