سونے کی قیمتوں میں اضافہ، روپے کی قدر مستحکم

کراچی – پاکستان میں پیر کے روز سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو عالمی منڈی میں تیزی کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے اور ہفتے کے اختتام پر آنے والی گراوٹ کو پلٹ دیتا ہے۔

آل پاکستان جمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن (APGJSA) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 24 قیراط سونا فی تولہ 1,500 روپے مہنگا ہوکر 3 لاکھ 57 ہزار 700 روپے پر پہنچ گیا۔ اسی طرح 24 قیراط کے 10 گرام سونے کی قیمت 1,286 روپے بڑھ کر 3 لاکھ 6 ہزار 670 روپے ہوگئی۔ 22 قیراط سونا بھی مہنگا ہوا اور 10 گرام کی قیمت 1,179 روپے اضافے کے ساتھ 2 لاکھ 81 ہزار 124 روپے ریکارڈ کی گئی۔

یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں نسبتاً مستحکم دکھائی دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں پر بنیادی اثر عالمی رجحانات کا ہی رہتا ہے، اور معمولی کرنسی اتار چڑھاؤ اس کو زیادہ متاثر نہیں کرتا۔ عالمی سطح پر سونے کی قیمت 15 ڈالر بڑھ کر فی اونس 3,350 ڈالر تک پہنچ گئی، جس نے مقامی سرمایہ کاروں میں تیزی کے رجحان کو مزید تقویت دی۔

اگرچہ انٹربینک مارکیٹ میں روپیہ معمولی بہتری کے ساتھ 0.01 فیصد بڑھا اور 282.02 روپے فی ڈالر پر بند ہوا، مگر سرمایہ کاروں نے بدستور سونے کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ترجیح دی۔ ان کے مطابق مہنگائی، جغرافیائی کشیدگی اور طویل المدتی کرنسی کمزوری کے خدشات سونے کی طلب کو بڑھا رہے ہیں۔

چاندی کی قیمتیں تاہم مستحکم رہیں۔ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ چاندی 4,031 روپے اور 10 گرام 3,455 روپے پر برقرار رہی، جبکہ عالمی منڈی میں بھی چاندی 37.98 ڈالر فی اونس پر مستحکم رہی۔

اسٹیٹ بینک آج نیا پیمنٹ سسٹم متعارف کرائے گا

دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) آج منگل، 19 اگست کو اپنا جدید ترین ادائیگی اور سیٹلمنٹ پلیٹ فارم PRISM+ متعارف کرانے جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نظام کا افتتاح کریں گے، جس میں سینئر حکام، مالیاتی اداروں کے نمائندے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شریک ہوں گے۔

PRISM+ عالمی میسجنگ اسٹینڈرڈ ISO 20022 پر مبنی ہے اور پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نظام کے دو بڑے حصے ہیں: ایک تیز رفتار ریئل ٹائم گراس سیٹلمنٹ (RTGS) نظام جو بڑی ادائیگیوں کے لیے ہوگا، اور دوسرا مرکزی سیکیورٹیز ڈپازٹری (CSD) جو سرکاری بانڈز اور ٹی بلز کے معاملات سنبھالے گا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق PRISM+ حقیقی وقت میں ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرے گا، لین دین کے شیڈول مرتب کرنے اور ترجیحی بنیادوں پر سیٹلمنٹ کی اجازت دے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ لائیو ڈیش بورڈ، خودکار انوائسنگ، مکمل آڈٹ ٹریل، رول بیسڈ ایکسس اور فوری الرٹس جیسے فیچرز شفافیت اور سیکیورٹی کو مزید بہتر بنائیں گے

More From Author

Volodymyr Zelensky,

حکومتی حج کوٹے میں صرف 3,500 نشستیں باقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے