کراچی — سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پیر کے روز بتایا کہ گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر سیلابی صورتحال قابو میں ہے، تاہم پنجند اور تریموں بیراج سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پنجند بیراج پر پانی کا بہاؤ اور اخراج 5 لاکھ 24 ہزار 762 کیوسک ریکارڈ ہوا، جب کہ تریموں پر یہ شرح 5 لاکھ 31 ہزار 993 کیوسک رہی۔ گڈو بیراج پر آمد 4 لاکھ 25 ہزار 813 کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 16 ہزار 763 کیوسک رہا۔ اسی طرح سکھر بیراج پر 3 لاکھ 52 ہزار 10 کیوسک پانی آیا اور 3 لاکھ 29 ہزار 310 کیوسک نکالا گیا، جب کہ کوٹری بیراج پر آمد 2 لاکھ 35 ہزار 243 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 31 ہزار 763 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
وزیر کا کہنا تھا کہ متاثرہ اضلاع میں ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: “یہ محض ایک آپریشن نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے۔ سندھ حکومت ہر مشکل گھڑی میں اپنی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔”
ان کے مطابق ریسکیو 1122 کی ٹیمیں نہ صرف انسانی جانیں بچا رہی ہیں بلکہ مویشی، کھانے پینے کا سامان اور گھریلو اشیاء بھی محفوظ بنا رہی ہیں تاکہ نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔
31 اگست سے 7 ستمبر کے درمیان ریسکیو اہلکاروں نے مختلف اضلاع میں 380 افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ سب سے بڑی کارروائی سکھر میں ہوئی جہاں امام بخش جتوئی، بشیرآباد اور حاجی فقیر محمد جتوئی کے دیہاتوں سے 69 افراد کو نکالا گیا۔
شہید بے نظیر آباد میں ٹیموں نے 147 افراد کے ساتھ 30 مویشی، 40 سولر پینل اور گندم کی بوریاں بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیں۔ نوشہرو فیروز میں مزید 147 افراد کو بچایا گیا، جبکہ خیرپور میر میں گل حسن گاؤں سے 5 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
شرجیل میمن نے ریسکیو 1122 کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کارروائیوں نے ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرتی رہے گی۔