سعودی عرب کی جانب سے پنجاب کے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ، 10 ہزار خیمہ کٹس تقسیم کی جائیں گی

لاہور — سعودی عرب نے پنجاب کے سیلاب متاثرہ خاندانوں کے لیے ہنگامی امداد روانہ کی ہے، جس میں خیموں اور خوراک کا بڑا ذخیرہ شامل ہے تاکہ ہزاروں متاثرہ افراد کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

لاہور میں ایک تقریب کے دوران وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے یہ امداد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے حوالے کی۔ یہ سامان، جو کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر کے تعاون سے بھجوایا گیا، پانچ ٹرکوں پر مشتمل ہے جس میں 10 ہزار خیمہ کٹس اور خوراک کے پیکج شامل ہیں۔ یہ امداد پنجاب کے سات شدید متاثرہ اضلاع — قصور، جھنگ، ملتان، چنیوٹ، خانیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور حافظ آباد — میں تقسیم کی جائے گی۔

حکام کے مطابق ہر فوڈ پیکج کا وزن 95 کلو گرام ہے، جس میں آٹا، چینی، چنے کی دال اور خوردنی تیل شامل ہے۔ خیمہ کٹس میں ایک خیمہ، سولر پینل، ایل ای ڈی لائٹس، دو کمبل، پلاسٹک کی چٹائی، مضبوط کچن سیٹ، واٹر کولر، اینٹی بیکٹیریل صابن اور دیگر ضروری اشیاء رکھی گئی ہیں۔ ان کی تقسیم پی ڈی ایم اے، کنگ سلمان ریلیف سینٹر اور حیات فاؤنڈیشن کے اشتراک سے کی جائے گی۔

اس موقع پر مریم نواز نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا بروقت اور فیاضانہ تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی یہ مدد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بھائی چارے اور اخوت کی حقیقی علامت ہے۔ “ایک بار پھر سعودی عرب نے پاکستان کو مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑا،” مریم نواز نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف حکمتِ عملی پر نہیں بلکہ اعتماد اور بھائی چارے کی بنیاد پر استوار ہیں۔

تقریب کے دوران وزیرِاعلیٰ اور سعودی سفیر نے جاری امدادی کاموں، اقتصادی تعاون اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ مریم نواز نے سعودی قیادت کے وژن اور ہمدردی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ امتِ مسلمہ کے اتحاد اور ترقی کے لیے رہنمائی کا باعث ہے۔

دوسری جانب حکام نے بتایا کہ گجرات شہر سے بڑے پیمانے پر سیلابی پانی نکالا جا چکا ہے، تاہم مدینہ سیداں کے حفاظتی بند میں شگاف کے باعث نکاسی کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ سرکاری مشینری اور مقامی رضاکار پانی کو ہالسی نالے کی طرف موڑنے میں مصروف ہیں تاکہ مزید نقصان روکا جا سکے۔

مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ متاثرہ علاقوں میں صحت کی سہولیات “تاریخ کی سب سے بڑی سطح” پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین اور بچوں کی نگہداشت کے لیے ایک مربوط پروگرام شروع کیا گیا ہے کیونکہ وہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق اب تک 968 موبائل کلینکس اور میڈیکل کیمپس قائم کیے جا چکے ہیں جہاں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف چوبیس گھنٹے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ حاملہ خواتین کے معائنے، صفائی کے پیکٹ، ملٹی وٹامنز اور ایمبولینس سروس فراہم کی جا رہی ہے تاکہ انہیں بروقت ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔ ماہر ڈاکٹرز روزانہ کی بنیاد پر بچوں کا علاج کرنے کی غرض سے ان کیمپوں کا دورہ کر رہے ہیں جبکہ نومولود بچوں کو ویکسین بھی لگائی جا رہی ہے۔ ان کیمپوں میں مچھر کے کاٹنے، معدے کی بیماریوں، جلدی امراض، ہیضے اور ملیریا کے علاج کے لیے ادویات وافر مقدار میں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کم غذائیت کا شکار بچوں کی اسکریننگ اور علاج بھی جاری ہے

More From Author

کراچی میں آن لائن منشیات نیٹ ورک چلانے والے چار ملزمان گرفتار

سندھ کے بیراجوں پر سیلابی صورتحال قابو میں ہے، شرجیل میمن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے