اسلام آباد/لاہور: وفاقی حکومت نے مہنگائی کے بڑھتے دباؤ اور حالیہ سیلاب سے تباہ ہونے والی لاکھوں ایکڑ زرعی زمین کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعرات کو اسلام آباد میں مہنگائی اسٹیئرنگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں استحکام اور سیلاب متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ منڈیوں کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ ناجائز منافع خوری اور مصنوعی مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔
اجلاس میں وزارتِ خزانہ، پٹرولیم، توانائی، منصوبہ بندی، قومی غذائی تحفظ کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک، ادارہ شماریات اور پالیسی انسٹی ٹیوٹ (SDPI) کے نمائندوں نے شرکت کی۔ یہ کمیٹی وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم کی گئی ہے تاکہ مہنگائی کے رجحانات پر نظر رکھی جا سکے اور وفاق و صوبوں کے درمیان پالیسیوں کو مربوط بنایا جا سکے۔
اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، جبکہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق چاول اور گنے کی فصلوں کو پہنچنے والا نقصان اگرچہ سنگین ہے لیکن اس وقت تک اسے "قابلِ برداشت” قرار دیا جا سکتا ہے۔ وزیر خزانہ نے آئندہ بوائی کے سیزن کی تیاریوں پر زور دیتے ہوئے بیج اور زرعی اجناس کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
کمیٹی نے این ڈی ایم اے، سپارکو اور ادارہ شماریات کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر فصلوں کے نقصانات کے درست اور بروقت تخمینے تیار کرنے کی ہدایت دی۔ کمیٹی آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس میں پیش رفت کا جائزہ لے گی اور مزید اقدامات تجویز کرے گی۔
دوسری جانب، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر نے زرعی نقصانات کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ وہ اتوار کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کریں گے، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صوبائی چیف سیکریٹری و فوڈ سیکریٹری سے بھی ملاقات متوقع ہے۔ ان مشاورتوں میں کسانوں کے لیے ریلیف اقدامات اور ممکنہ طور پر پھلوں، سبزیوں اور دیگر اشیاء کی درآمدی پالیسی پر غور کیا جائے گا تاکہ غذائی قلت سے بچا جا سکے۔
پنجاب کے محکمہ زراعت کے مطابق، صوبے میں حالیہ سیلاب سے تقریباً 21 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔ متاثرہ فصلوں میں ایک لاکھ 10 ہزار ایکڑ کپاس، 9 لاکھ 70 ہزار ایکڑ چاول، 2 لاکھ 20 ہزار ایکڑ گنا، ایک لاکھ 86 ہزار ایکڑ مکئی، 4 لاکھ 50 ہزار ایکڑ چارہ اور ایک لاکھ 15 ہزار ایکڑ سبزیاں شامل ہیں۔
حکومتی پالیسی سازوں کے لیے یہ دوہرا چیلنج ہے: ایک طرف تباہ حال زرعی شعبے کی بحالی اور دوسری طرف عام عوام کو مہنگائی کے بوجھ سے بچانا۔ حکام تسلیم کرتے ہیں کہ آنے والے ہفتے حکومت کے عزم اور کارکردگی کا اصل امتحان ثابت ہوں گے۔