برلن:
یورپی طاقتیں آئندہ چند روز میں ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوں گے جب ایک ماہ قبل امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے۔ ایک جرمن سفارتی ذریعے نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی۔
برطانیہ، فرانس اور جرمنی، جنہیں اجتماعی طور پر E3 کہا جاتا ہے، تہران کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ ان مذاکرات کی تاریخ اور مقام طے کیا جا سکے۔ سفارتی ذریعے کے مطابق، “اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے کہ مذاکرات کب اور کہاں ہوں گے۔”
حال ہی میں ان تینوں ممالک نے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ اگر وہ دوبارہ مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو اس پر بین الاقوامی پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکتی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے بھی رپورٹ کیا کہ ایران نے یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات پر اصولی طور پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ایک جرمن سفارتکار نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا یورپ کی اولین ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا، “جرمنی، فرانس اور برطانیہ ایران کے جوہری پروگرام کا پائیدار اور قابل تصدیق سفارتی حل نکالنے کیلئے E3 فارمیٹ کے تحت اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔”
مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم تہران ہمیشہ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے۔
اتوار کو ایک اور اہم پیش رفت میں، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ماسکو میں ایران کے سپریم لیڈر کے جوہری امور کے اعلیٰ مشیر علی لاریجانی سے غیر متوقع ملاقات کی۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے مطابق، لاریجانی نے مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال اور ایرانی جوہری پروگرام پر ایران کا نقطہ نظر پیش کیا۔
پیسکوف کا کہنا تھا کہ پیوٹن نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایرانی جوہری مسئلے کے سیاسی حل پر روس کے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا۔ اگرچہ روس ایران کی مذہبی قیادت کا قریبی اتحادی ہے اور اسے مختلف مواقع پر اہم مدد فراہم کرتا رہا ہے، لیکن گزشتہ ماہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ماسکو نے کھل کر ایران کی حمایت نہیں کی۔
2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ ہوا تھا، جسے مشترکہ جامع ایکشن پلان (JCPOA) کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں جبکہ ایران کو بین الاقوامی پابندیوں میں ریلیف دیا گیا تھا۔ تاہم، 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو معاہدے سے نکال کر ایران پر دوبارہ پابندیاں لگا دی تھیں جس کے بعد یہ معاہدہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا۔
حال ہی میں یورپی ممالک نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے معاہدے کی پاسداری نہ کی تو وہ “اسنیپ بیک” میکانزم کو فعال کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں پابندیاں خود بخود دوبارہ عائد ہو جائیں گی۔ تاہم، جمعہ کو یورپی وزرائے خارجہ سے بات چیت کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ مغربی ممالک کے پاس اس وقت پابندیاں دوبارہ لگانے کا کوئی قانونی جواز نہیں۔