بیجنگ – 8 اگست 2025:
چین نے اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر مکمل قبضے کے اعلان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تل ابیب پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے "خطرناک اقدامات” فوراً روک دے، جو پہلے ہی بدترین انسانی بحران سے دوچار علاقے میں حالات کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعے کو جاری کردہ ایک بیان میں واضح کیا کہ غزہ فلسطینی عوام کا حصہ ہے اور فلسطینی سرزمین کا ناقابلِ تقسیم جزو ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی سیکیورٹی کابینہ کی منظوری کے بعد اسرائیلی فوج غزہ پر مکمل قبضے کے منصوبے پر عمل درآمد کرے گی۔
چین نے اسرائیل سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ یہی واحد راستہ ہے جس سے غزہ میں جاری انسانی بحران میں کمی لائی جا سکتی ہے اور یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا، "جنگ بندی ہی کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کی بحالی کا واحد ذریعہ ہے۔ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے تیار ہے۔” بیجنگ کا یہ بیان اس بڑھتی ہوئی عالمی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے جو اسرائیل کے متنازعہ اقدام پر سامنے آ رہی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے خطے میں عام شہریوں کی مشکلات اور بدامنی مزید بڑھ سکتی ہے