کراچی – 6 اگست 2025:
کراچی کے شہریوں کے لیے خوشخبری ہے، کیونکہ گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے دوسرے مرحلے کا کام اگست کے دوسرے ہفتے میں شروع ہونے جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ شہر کے ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے اور ماحول دوست، تیز رفتار سفری سہولت فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
تقریباً چار سال بعد، جب گرین لائن کا پہلا مرحلہ سُرجانی ٹاؤن سے نمائش تک کامیابی سے مکمل ہوا، اب اس کا دوسرا مرحلہ کیپری سنیما سے میونسپل پارک، صدر تک 1.8 کلومیٹر کے نئے روٹ پر مشتمل ہوگا۔ یہ علاقہ شہر کے سب سے مصروف کاروباری اور رہائشی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
حکام کے مطابق، یہ راستہ خاص طور پر شہر کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے اور روزانہ کے مسافروں کو آرام دہ، محفوظ اور تیز تر سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اس مرحلے میں تین جدید بس اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے، جن میں مسافروں کی سہولت، رسائی اور حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
ٹریفک کے بہاؤ کو رواں رکھنے اور بسوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے چلانے کے لیے دو مخصوص سگنلز بھی نصب کیے جائیں گے تاکہ رش کے اوقات میں بھی بس سروس متاثر نہ ہو۔
تعمیراتی کام کے لیے ٹھیکے دیے جا چکے ہیں اور اب منصوبہ عملی طور پر شروع ہونے کے لیے تیار ہے۔ فیز 2 کے لیے مزید 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے بعد مجموعی لاگت 30 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے — جو اس منصوبے کے حوالے سے حکومت کے دیرپا وژن کو ظاہر کرتی ہے۔
حکام کو امید ہے کہ اس منصوبے سے نہ صرف شہریوں کے سفر کے دورانیے میں کمی آئے گی بلکہ ٹریفک کے دباؤ میں بھی نمایاں کمی ہوگی، اور لوگ انفرادی ٹرانسپورٹ کی بجائے اجتماعی، ماحول دوست سفر کو ترجیح دیں گے — جو پائیدار شہری ترقی کی وسیع تر پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے۔
جب یہ مرحلہ مکمل ہو جائے گا، تو یہ تجارتی، انتظامی اور رہائشی علاقوں کو آپس میں جوڑنے والی ایک اہم کڑی بن جائے گا، اور یوں گرین لائن شہر کے پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم کی ریڑھ کی ہڈی بننے کی جانب ایک اور قدم ہوگا۔ شہریوں کے لیے یہ صرف ایک اور انفرا اسٹرکچر پراجیکٹ نہیں بلکہ ایک وعدہ ہے — بہتر سفر، کم دباؤ اور قیمتی وقت کی بچت کا