کم از کم تنخواہ اور محنت کشوں کا استحصال: پاکستان میں ایک سنگین بحران

سوال یہ ہے کہ آخر ان مظالم کو بے نقاب کرنے اور روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے؟

کراچی میں ہر صبح فجر کی اذان کے بعد، اسداللہ خان اپنے چھوٹے سے کرائے کے کمرے سے باہر نکل آتے ہیں۔ زیاالدین اسپتال کلفٹن کے قریب واقع اپنے گھر سے وہ پیدل صدر کی طرف روانہ ہوتے ہیں – تقریباً دس کلومیٹر کا سفر، جو دو گھنٹے میں طے ہوتا ہے – تاکہ اپنی بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی پر وقت سے پہلے پہنچ سکیں۔ نیوی بلیو رنگ کی ماند پڑی وردی پہنے، وہ ایک بوسیدہ عمارت کے باہر پہرا دیتے ہیں، جھلسا دینے والی دھوپ میں اپنی جان کھپا کر محض پچیس ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں۔

دوپہر ہوتے ہی حبس اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ پسینے میں بھیگی قمیض اتار کر پارکنگ میں لگے ایک پرانے پنکھے کے سامنے سکھاتے ہیں، اور چند لمحے خود بھی اس پنکھے کے سامنے گزار لیتے ہیں۔ شام سات بجے جب ڈیوٹی ختم ہوتی ہے، تو وہ تھکے ہارے دوبارہ دو گھنٹے پیدل چل کر واپس اپنے کمرے پہنچتے ہیں، جہاں ان کی بیوی اور بچے ان کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

"سات ہزار روپے کرایہ دیتا ہوں، باقی گزارہ ہو جاتا ہے،” وہ مسکرا کر کہتے ہیں، اگرچہ ان کے چہرے کی تھکن یہ مسکراہٹ چھپا نہیں سکتی۔

اسداللہ کو علم ہی نہیں کہ ان کی تنخواہ پاکستان میں مقرر کردہ کم از کم اجرت سے تیس فیصد کم ہے۔ مالی سال 2024-25 کیلئے وفاقی حکومت نے کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے مقرر کی تھی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15.6 فیصد زیادہ تھی۔ 2025-26 میں بھی یہ تنخواہ برقرار رکھی گئی، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کہیں نظر نہیں آتا۔

حالیہ دنوں سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے انکشاف کیا کہ صوبے کی 80 فیصد نجی صنعتیں مزدوروں کو قانونی کم از کم اجرت ادا نہیں کر رہیں۔ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور کے مطابق 95 فیصد فیکٹریاں اپنے ورکرز کو جائز تنخواہ نہیں دیتیں۔

جب اسداللہ سے پوچھا گیا کہ ان کی نظر میں انہیں کتنی تنخواہ ملنی چاہیے، تو وہ دھیرے سے بولے، "شاید تیس ہزار؟”

چھپی ہوئی چوری

رنچھوڑ لائن کراچی کی ایک تنگ اور گھٹی ہوئی کوٹھڑی میں، ایک اور کہانی جنم لے رہی ہے۔ فیروزئی رنگ کی مٹی اور پسینے سے سیاہ پڑی قمیض پہنے، منیش داس* بار بار ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں۔ چند ماہ قبل وہ ٹنڈو محمد خان میں زمیندار کی غلامی سے جان چھڑا کر شہر آئے تھے، جہاں انہیں نقد نہیں بلکہ فصلوں میں مزدوری دی جاتی تھی۔

مگر کراچی نے بھی انہیں زیادہ ریلیف نہ دیا۔ روزانہ صبح آٹھ بجے سے تین بجے تک سڑکیں صاف کر کے وہ پندرہ ہزار چھ سو روپے ماہانہ کماتے ہیں، وہ بھی ہفتہ وار قسطوں میں۔ اس میں سے آٹھ سے دس ہزار ہی وہ اپنے گھر بھیج پاتے ہیں۔

"واپس گھر جانا بھی چار پانچ ہزار روپے لگا دیتا ہے، کہاں سے لاؤں؟” وہ آہستگی سے کہتے ہیں۔

مزدور حقوق کے علمبردار نعیم صادق کے مطابق قانون کے تحت غیر ہنرمند مزدور کو آٹھ گھنٹے روزانہ کی بنیاد پر کم از کم 37 ہزار روپے ملنے چاہئیں، جبکہ اوور ٹائم اس سے دگنی شرح پر دیا جانا چاہیے۔ صادق سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ (SSWMB) کی مثال دیتے ہیں، جہاں تقریباً 12 ہزار صفائی کارکنوں کو 37 ہزار کے بجائے اوسطاً 20 ہزار دیے جا رہے ہیں، اور یوں سالانہ 2.4 ارب روپے کی ’اجرت چوری‘ ہو رہی ہے۔

"سوچیں، سترہ ہزار فی شخص ماہانہ، بارہ ہزار لوگوں سے، یہ اربوں روپے بنتے ہیں جو اوپر تک جا رہے ہیں،” وہ کہتے ہیں۔

دوسری طرف SSWMB کے منیجنگ ڈائریکٹر طارق علی نظامانی کا دعویٰ ہے کہ وہ کنٹریکٹرز کو کم از کم تنخواہ ادا کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، "ہمیں کبھی کسی نے کم تنخواہ کی شکایت نہیں کی۔”

مگر حقیقت مختلف ہے۔ حسین عامر*، جو پہلے SSWMB کے کنٹریکٹر کے تحت کچرا گاڑی چلاتے تھے اور 32 ہزار کماتے تھے، تنخواہ کا سوال اٹھانے پر نوکری سے نکال دیے گئے۔ کئی ماہ بعد وہ دوبارہ اسی کمپنی میں رکشہ ڈرائیور بنے ہیں، مگر اب تنخواہ صرف 25 ہزار ہے۔

آل پاکستان لوکل گورنمنٹ ورکرز فیڈریشن کے چیئرمین ذوالفقار شاہ کے مطابق، کنٹریکٹرز جان بوجھ کر ورکرز کو تقرری کے خطوط جاری نہیں کرتے تاکہ وہ یونین نہ بنا سکیں۔ داس اور ان کے ساتھی کریم آکاش* جیسے کئی مزدور چوتھے پانچویں درجے کے سب کنٹریکٹرز کے ذریعے رکھے گئے ہیں، بغیر کسی تحریری معاہدے کے۔ ان کی حاضری روزانہ تصویر کھینچ کر لگائی جاتی ہے۔

"ہمیں نظر نہ آنے والا رکھتے ہیں تاکہ ہم شکایت نہ کر سکیں،” آکاش بتاتے ہیں کہ کنٹریکٹر ہفتے میں ایک بار انہیں نقد ادائیگی کرتے ہیں۔

کیا کم از کم تنخواہ کافی ہے؟

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق، ایک چھ رکنی خاندان کو بنیادی ضروریات – خوراک، رہائش، بجلی، صحت اور تعلیم – کیلئے کم از کم 75 ہزار روپے ماہانہ درکار ہیں۔

وفاقی بجٹ 2025-26 سے قبل پیپلز پارٹی نے کم از کم اجرت پچاس ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کے لیبر بیورو کے سربراہ چودھری منظور احمد نے عالمی بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی 44 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، اور مزدوروں کیلئے بہتر صحت سہولیات اور گرانٹس کا مطالبہ کیا۔

مگر کورنگی کی ایک ڈینم فیکٹری میں مشین آپریٹر حنا امین* کیلئے تنخواہ بڑھنے سے زیادہ اہم مسئلہ بروقت ادائیگی کا ہے۔ سوال مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ بول اٹھیں:

"لوگ کام کیوں کرتے ہیں؟ روزی روٹی کیلئے۔ اور یہاں تنخواہ لینے کیلئے بھی لڑنا پڑتا ہے۔ اگر آواز اٹھائیں تو نکال دیتے ہیں۔”

امین کی تنخواہ 37 ہزار روپے ہے، مگر روزانہ 60 روپے آنے جانے پر لگ جاتے ہیں، اوپر سے کمرے کا کرایہ، بجلی بل، اور راشن۔ فیکٹری میں کینٹین نہیں، اور حاضری کا نظام اتنا سخت ہے کہ اگر کوئی 9 بجے کی شفٹ میں چند منٹ پہلے بھی پہنچے تو لیٹ مارک کر دیا جاتا ہے، جس سے تنخواہ کٹتی ہے۔

"پہلے تو وقت پر تنخواہ دے دیں، تاکہ کرایہ دینے کیلئے قرض نہ لینا پڑے، پھر بات کریں گے بڑھانے کی،” وہ تھکے ہوئے لہجے میں کہتی ہیں۔

نعیم صادق بھی یہی کہتے ہیں کہ آج کی مہنگائی میں کم از کم تنخواہ ساٹھ ہزار ہونی چاہیے۔ لیکن ان کا درد ہے، "یہ بحث تو تب شروع ہو جب مزدوروں کو کم از کم تنخواہ مل تو رہی ہو۔ فی الحال تو ہم ہر نوالے اور ہر سانس کیلئے لڑ رہے ہیں۔”

More From Author

 اگلے 15 دن کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 3 لاکھ 36 ہزار سے زائد پاکستانی روزگار کیلئے بیرون ملک روانہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے