کراچی — سندھ ہائیکورٹ کو جمعرات کے روز بتایا گیا کہ کراچی کے تین بڑے چڑیا گھروں میں منظور شدہ آسامیاں تقریباً نصف کے قریب خالی ہیں، جس کی وجہ صوبائی حکومت کی بھرتی پر عائد پابندی ہے۔ اس صورتحال کے باعث جانوروں کی دیکھ بھال اور روزمرہ انتظامی امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق کراچی زولوجیکل گارڈن، سفاری پارک اور لانڈھی-کورنگی زو میں مجموعی طور پر 233 منظور شدہ آسامیوں میں سے 116 خالی پڑی ہیں، جن میں ویٹرنری ڈاکٹرز اور دیگر اہم عملہ بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال جون میں لوکل گورنمنٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک حکم نامے کے تحت بھرتی پر صوبہ بھر میں پابندی عائد کی گئی تھی، جس کے باعث نئی تقرریاں ممکن نہیں ہو سکیں۔ تاہم کے ایم سی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مستقل بنیادوں پر حکومت سے اس پابندی کے خاتمے کی درخواست کر رہے ہیں تاکہ عملے کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
عدالتی کارروائی کے دوران زو ڈیپارٹمنٹ کے سینئر ڈائریکٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مادہ ریچھ ’’رانو‘‘ کو اسلام آباد کے ایک محفوظ سنکچری میں منتقل کر دیا گیا ہے اور کے ایم سی کی تحویل میں موجود تمام جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ کے ایم سی کا تفریحی شعبہ، جس کے تحت شہر کے تینوں چڑیا گھر آتے ہیں، تقریباً ساٹھ سال قبل قائم کیا گیا تھا۔ اُس وقت تین ویٹرنری ڈاکٹروں کی آسامیوں کی منظوری دی گئی تھی دو کراچی زو کے لیے اور ایک سفاری پارک کے لیے۔ فی الحال صرف ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر سطح کا ویٹرنری ڈاکٹر خدمات انجام دے رہا ہے، جبکہ دو آسامیاں خالی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف ویٹرنری ڈاکٹروں کی نہیں بلکہ دیگر اہم عہدوں، جیسے ہیڈ زو کیپر، اسسٹنٹ ہیڈ زو کیپر، زو کیپرز اور مہاوتس کی آسامیاں بھی خالی ہیں، جس سے جانوروں کی دیکھ بھال متاثر ہو رہی ہے۔
کے ایم سی نے بتایا کہ 1997 کی ایک کونسل قرارداد کے تحت ایک پینل تشکیل دیا گیا تھا، جو ہنگامی صورتحال میں ماہر ویٹرنری خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس وقت تین سینئر ویٹرنری ڈاکٹرز اس پینل میں شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ آسٹریا کی فلاحی تنظیم "فور پاز” 2021 سے کراچی کے ہاتھیوں کی بہبود کے لیے بطور مشیر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایک تکنیکی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی سری لنکا کے نیشنل زولوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر آر سی راج پکسہ کر رہے ہیں جبکہ فور پاز کے ڈاکٹر عامر خلیل شریک چیئرمین ہیں۔
ڈاکٹر خلیل نے رواں سال جنوری میں ریچھ رانو کا معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ وہ شامی نسل سے تعلق رکھتی ہے، جس کی شناخت اس کے ہلکے رنگ کے پنجوں سے کی جا سکتی ہے — یہ ان غیر ملکی ماہرین کی رائے کے برعکس ہے جو اسے ہمالیائی نسل کا قرار دے رہے تھے۔
سماعت کے دوران درخواست گزار جبران ناصر نے عدالت کو بتایا کہ عملے کی کمی کے ساتھ ساتھ چڑیا گھروں کے ایکسرے مشینز اور آپریشن تھیٹر بھی خراب پڑے ہیں۔
عدالت نے اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کے ایم سی حکام کو ہدایت کی کہ مشینری اور دیگر آلات فوراً درست کیے جائیں۔ بینچ نے ریمارکس دیے کہ چڑیا گھروں کو نیشنل پارکس میں تبدیل کر دینا چاہیے تاکہ جانوروں کی بہتر حفاظت ممکن ہو سکے۔
عدالت نے خبردار کیا کہ اگر مسائل حل نہ ہوئے تو معاملہ نیب کو تحقیقات کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی اور وزیراعلیٰ کی تشکیل کردہ کمیٹی کو پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا گیا۔