اسلام آباد — پاکستان نے اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی یقیناً کروائے، اور اسے پانی کے مشترکہ حقوق کی پاسداری کی طرف واپس لانے میں معاون بنے۔ اس ضمن میں پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ، عاصم افتخار احمد، نے سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں اظہارِ خیال کیا کہ بھارت نے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کردیا ہے، جو مشترکہ قدرتی وسائل کے ہتھیار بننے کی واضح مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پچھلے چھ دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے نظام کو منصفانہ اور قابلِ پیشگوئی انداز سے بانٹنے کا ایک اہم ستون رہا ہے، اور اس کی معطلی نہ صرف معاہدے کے الفاظ بلکہ اس کے روح دونوں کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ماحولیاتی نظام متاثر ہو رہا ہے، معلومات کے تبادلے میں خلل آ رہا ہے اور ان لاکھوں افراد کی حفاظت خطرے میں ہے جو دریائے سندھ اور اس کے نالوں کے پانی پر اپنی زرعی، توانائی اور زندگی کی بنیاد رکھتے ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ ۲۰۲۵ میں ہاغ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے اس معاہدے کی مزید قانونی حیثیت کی تصدیق کی ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ کوئی فریق اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا تبدیل نہیں کر سکتا۔ پاکستان کا موقف ہے کہ تمام معاملات معاہدے کے اندر طے پانے والے طریقہ کار کے تحت حل ہونے چاہئیں۔
انہوں نے زور دیا کہ فوری ترجیح پانی کے نظام کے تحفظ، اس معاہدے کی عملداری اور متاثرین کی زندگیوں کی حفاظت ہونی چاہیے، اور مشترکہ قدرتی وسائل کو تنازعہ کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔