کراچی کے علاقے گرو مندر کے قریب اتوار کے روز دوستوں کے درمیان ایک معمولی جھگڑا جان لیوا ثابت ہوا، جب 17 سالہ نوجوان عبدالرحمٰن زندگی کی بازی ہار گیا۔ پولیس کے مطابق جھگڑا ایک لڑکی کی پروفائل تصویر پر ہوا۔
جاں بحق نوجوان عبدالرحمٰن اپنے چھ دوستوں کے ہمراہ کنز الایمان مسجد کے قریب ایک ریسٹورنٹ کے باہر بیٹھا تھا، جب دو لڑکوں — منان علی اور عبداللہ — کے درمیان بحث چھڑ گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ منان کے موبائل فون میں عبداللہ کی گرل فرینڈ کی تصویر پائی گئی تھی، جس پر بات بگڑ گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق بات اتنی بڑھی کہ عبدالرحمٰن نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی، مگر اسی دوران منان نے اسے دھکا دے دیا۔ عبدالرحمٰن کا سر قریبی کھڑی موٹر سائیکل کے لوہے کے ہینڈل سے جا ٹکرایا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس تھانہ جمشید کوارٹرز سے موقع پر پہنچی اور چھ نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ زیرِ حراست ملزمان کی شناخت طلحہ محمد، حسن عرف عارف (جاں بحق لڑکے کا کزن)، عبداللہ، فراز ستار، منان علی اور معیز محمد کے نام سے ہوئی ہے۔
عبدالرحمٰن کی لاش کو قانونی کارروائی کے لیے ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
تھانہ جمشید کوارٹرز کے ایس ایچ او انصر احمد بٹ کے مطابق جھگڑے کی بنیاد لڑکی کی تصویر پر اٹھنے والا شک تھا، جس کے بعد منان کے دھکے سے عبدالرحمٰن زمین پر گرا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ان کا کہنا تھا، "اتنی معمولی بات پر ایک قیمتی جان کا ضیاع افسوسناک ہے۔” دوسری جانب، اتوار کو ہی پولیس نے شمالی کراچی میں ایک پولیس کانسٹیبل کے قتل اور لاش کو آگ لگانے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق قتل کی وجہ ذاتی دشمنی بتائی جا رہی ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں