کراچی — سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) نے مون سون بارشوں کی آمد سے قبل صوبے بھر میں 740 خستہ حال عمارتوں کو انسانی رہائش کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا ہے، جن میں سے 588 عمارتیں صرف کراچی میں واقع ہیں۔ اتھارٹی نے رہائشیوں کو نئے انخلائی نوٹس جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان عمارتوں کی بارشوں کے دوران مکمل یا جزوی طور پر منہدم ہونے کا شدید خدشہ ہے۔
اتھارٹی کے مطابق ان عمارتوں کی اکثریت ایک صدی پرانی ہے، جن میں کئی کا تعلق قیامِ پاکستان سے قبل کے دور سے ہے۔ زیادہ تر عمارتیں کراچی کے پرانے اور گنجان آباد علاقوں میں واقع ہیں، جہاں رہائشی — واضح انتباہات کے باوجود — عمارتیں خالی کرنے کو تیار نہیں۔
ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل محمد اسحاق کھوکھر نے خبردار کیا کہ "یہ عمارتیں اب انسانی رہائش کے قابل نہیں رہیں، خاص طور پر مون سون کی بارشوں کے دباؤ میں۔” ان کا کہنا تھا کہ بارش کا پانی بنیادوں کو مزید کمزور کر دیتا ہے اور شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگنے جیسے واقعات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
زندگی یا چھت: متاثرین کی بے بسی
ان خستہ حال عمارتوں میں رہنے والے زیادہ تر لوگ 1947 کے بعد ہجرت کرکے آنے والے خاندانوں کی نسلیں ہیں، جنہوں نے انہی مکانوں میں زندگی گزاری جو ان کے آبا و اجداد نے قیام پاکستان کے فوراً بعد آباد کیے تھے۔ محدود وسائل کے باعث یہ شہری متبادل رہائش کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے اور تمام تر خطرات کے باوجود وہیں مقیم ہیں۔
صدر کے ایک پرانے فلیٹ کے رہائشی نے بتایا، "ڈر تو ہے، لیکن ہم جائیں تو کہاں؟ یہاں اسکول، اسپتال، اور کام سب قریب ہیں۔”
ہنگامی اقدامات اور شعور بیداری مہم
SBCA نے کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کراچی ہیڈ آفس سمیت حیدرآباد، میرپور خاص، سکھر اور لاڑکانہ کے علاقائی دفاتر میں 24 گھنٹے فعال بارش ایمرجنسی مراکز قائم کر دیے ہیں۔ ان مراکز میں تکنیکی عملے کی ٹیمیں تین شفٹوں میں ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں تاکہ عمارتوں کے انہدام یا دیگر ہنگامی حالات کا بروقت جواب دیا جا سکے۔
اتھارٹی نے لاؤڈ اسپیکر اعلانات، بینرز، اور مقامی آگاہی مہمات کے ذریعے خطرے سے دوچار علاقوں کے رہائشیوں کو فوری انخلاء کی اپیل کی ہے۔
ڈی جی کھوکھر کا کہنا تھا، "ہر سال ہم بارشوں میں افسوسناک حادثے دیکھتے ہیں۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ اس بار کسی جان کا نقصان نہ ہو۔”
ریسکیو اداروں سے ربط
ایس بی سی اے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ریسکیو اداروں، بلدیاتی انتظامیہ، اور یوٹیلیٹی کمپنیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ حکام پہلے سے نشاندہی شدہ عمارتوں کی مسلسل نگرانی بھی کر رہے ہیں۔
اتھارٹی نے ایک بار پھر رہائشیوں سے "آخری اپیل” کرتے ہوئے کہا:
"جن عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا ہے، وہاں رہائش اختیار کیے رکھنا آپ کی جان اور مال کو شدید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ برائے مہربانی فوری طور پر انخلاء کریں۔” کراچی ایک اور غیر متوقع مون سون کا سامنا کرنے کو تیار ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بار حالات مختلف ہوں گے؟ یا پھر ہم ایک بار پھر وہی المیہ دہرائیں گے جسے روکا جا سکتا تھا؟