رپورٹ: اسٹاف رپورٹر
اسلام آباد – چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعے کے روز اسلام آباد میں سول سروس افسران کی 52ویں کامن ٹریننگ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے مغربی ہمسایے افغانستان کے ساتھ پرامن اور تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے، مگر سرحد پار دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
"ہم صرف ایک بات چاہتے ہیں — بھارت کے دہشت گرد ایجنٹوں کو جگہ نہ دیں، نہ ‘فتنہ الہند’ کو اور نہ ‘فتنہ الخوارج’ کو،” آرمی چیف نے اپنے خطاب میں کہا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ دشمن عناصر کو پناہ دینا نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے لیے بھی خطرناک ہے۔
فیلڈ مارشل منیر نے اندرونی و بیرونی سیکیورٹی چیلنجز، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ملک میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں فوج کے کردار پر بھی بات کی۔ انہوں نے سول سروس افسران کو ایمانداری، پیشہ ورانہ مہارت اور حب الوطنی کو اپنی خدمت کا مرکز بنانے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط، مؤثر اور شفاف سول بیوروکریسی ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سول اور عسکری قیادت کے درمیان ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی ہی پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نکال سکتی ہے۔
خطاب کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے ملکی امور پر کھل کر بات کی اور قومی ترقی کے لیے مشترکہ وژن کی تائید کی۔
دوسری جانب، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سرکاری اداروں (SOEs) سے متعلق کابینہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی، جہاں انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ان اداروں کی اصلاحات کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کے بزنس پلانز کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا، اور ان کی کارکردگی میں بہتری لانا وقت کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر بجلی اور توانائی کے شعبوں میں فوری اصلاحات پر زور دیا گیا، جن میں برسوں سے بدانتظامی اور مالی نقصانات کا سامنا ہے۔
وزیر خزانہ نے ان اداروں کے بورڈز میں موجود حکومتی نمائندوں کی ذمہ داری کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ صرف علامتی حیثیت نہ رکھیں، بلکہ باخبر اور متحرک فیصلوں سے اداروں کی بہتری میں کردار ادا کریں۔
اجلاس میں وزارتِ خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ نے جولائی سے دسمبر تک کی کارکردگی پر مبنی رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق سرکاری اداروں کو مجموعی طور پر 5.8 ٹریلین روپے کا خسارہ درپیش ہے۔ رپورٹ میں ناقص نظم و نسق، پرانی انتظامی ساخت، اور کارکردگی کی کمی کو اہم چیلنجز کے طور پر اجاگر کیا گیا۔
چاہے وہ فوجی قیادت کا پیغام ہو یا وزارت خزانہ کی رپورٹ — دونوں باتوں میں ایک قدر مشترک ہے: پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے مضبوط اداروں، مؤثر احتساب، اور باہمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔