پنجاب میں مہنگائی کا جن بے قابو

حکومتی نرخ نامے ناکام، عوام بازاروں میں لٹنے پر مجبور

لاہور – 4 اگست 2025:
پنجاب بھر میں مہنگائی نے عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے دعوے اور نئے نظامات کے باوجود، اشیائے خورونوش خاص طور پر سبزیاں، پھل اور مرغی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

رواں ہفتے مختلف بازاروں کا دورہ کرنے پر یہ بات واضح ہوئی کہ سرکاری نرخ نامے محض کاغذی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ بازاروں میں دکاندار من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کہیں نظر نہیں آتی۔

مرغی کی بات کریں تو حکومت نے زندہ مرغی کی قیمت میں 15 روپے کمی کرکے اسے 374 سے 388 روپے فی کلو مقرر کیا، لیکن بیشتر صارفین نے بتایا کہ انہیں فی کلو 480 روپے تک ادا کرنا پڑے۔ اسی طرح مرغی کا گوشت 562 روپے کے سرکاری نرخ پر دستیاب ہونا چاہیے تھا، لیکن بازار میں 570 سے 640 روپے فی کلو میں فروخت ہوا، جبکہ بون لیس گوشت نے تو ہزار کا ہندسہ بھی عبور کر لیا — کئی دکاندار 1200 روپے فی کلو تک مانگتے پائے گئے۔

سبزیوں کی قیمتوں نے بھی عوام کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ اے گریڈ آلو کی قیمت سرکاری طور پر 80 سے 85 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن بازار میں یہی آلو 140 سے 150 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔ پیاز، جس کی سرکاری قیمت 50 سے 55 روپے فی کلو ہے، 100 روپے میں دستیاب ہے۔ ٹماٹر، جو ہر گھر کی ضرورت ہیں، 82 سے 90 روپے کے بجائے 150 روپے فی کلو تک جا پہنچے ہیں۔

ادرک اور لہسن جیسی ضروری اشیاء بھی سب سے زیادہ مہنگی ثابت ہو رہی ہیں۔ لہسن کی سرکاری قیمت 210 سے 260 روپے کے درمیان ہے، مگر دکاندار 400 روپے وصول کر رہے ہیں۔ ادرک 400 سے 460 روپے کے بجائے 600 سے 700 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جو کہ متوسط طبقے کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہے۔

دیگر سبزیاں جیسے کھیرہ (200 روپے فی کلو)، بینگن (150)، کریلا (220) اور بھنڈی (240) بھی عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ ساگ، کدو، توری، لیموں اور اروی بھی 30 سے 100 روپے فی کلو اضافے کے ساتھ فروخت ہو رہے ہیں۔

پھلوں کی قیمتوں نے بھی کسی حد تک راحت دینے کے بجائے مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ سیب، جس کی قیمت 145 سے 265 روپے فی کلو مقرر ہے، 350 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ کیلا، جو عام آدمی کا پھل سمجھا جاتا ہے، بھی 50 سے 90 روپے اضافے کے ساتھ دستیاب ہے۔ امرود اور پپیتا یا تو بہت مہنگے ہو چکے ہیں یا بازار سے غائب ہیں۔ انگور اور آم، جو موسم گرما کی خاص سوغات ہیں، 500 روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں۔

سب سے زیادہ چونکا دینے والا اضافہ کھجور کی قیمت میں دیکھا گیا ہے۔ سرکاری طور پر کھجور کی قیمت 460 سے 490 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر کچھ اقسام 2,000 روپے فی کلو تک میں فروخت کی جا رہی ہیں — جو کہ مقررہ قیمت سے چار گنا زیادہ ہے۔

عام شہری، خاص طور پر تنخواہ دار اور متوسط طبقہ، اس بڑھتے ہوئے فرق اور حکومتی دعووں پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات تو کیے جا رہے ہیں، لیکن عملی نفاذ نہ ہونے کے باعث منافع خور دندنا رہے ہیں۔ جب تک حکومت اپنے نرخ ناموں کو زمینی سطح پر نافذ کرنے میں سنجیدہ اقدامات نہیں کرتی، عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے رہیں گے — اور سرکاری وعدے، کاغذی باتوں سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے

More From Author

آئی ایم ایف کا واشنگٹن کنسنس بمقابلہ چین کا ترقیاتی ماڈل: کیا پاکستان کو اپنے معاشی راستے پر نظرثانی کی ضرورت ہے؟

سندھ بھر میں 10 ایس ایچ اوز معطل و تنزلی کا شکار، مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے