سندھ بھر میں 10 ایس ایچ اوز معطل و تنزلی کا شکار، مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام

حیدرآباد – 4 اگست 2025

سندھ پولیس میں صفائی مہم کے تحت ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے، صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 10 اسٹیشن ہاؤس افسران (ایس ایچ اوز) کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ متعدد کے عہدے بھی تنزلی کا شکار ہوئے ہیں۔ ان پر سنگین پیشہ ورانہ غفلت اور مبینہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے یہ کارروائی کی گئی، جس میں حیدرآباد، کراچی، سانگھڑ، قمبر شہداد کوٹ، سکھر اور شکارپور سے تعلق رکھنے والے افسران شامل ہیں۔ تمام معطل شدہ اہلکاروں کو کراچی کے گارڈن پولیس ہیڈکوارٹرز میں واقع "بی کمپنی” میں رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے — ایک ایسی ڈسپلنری یونٹ جسے پولیس کے حلقوں میں "کالا پانی” کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں بلیک لسٹ یا معطل اہلکار روزانہ آٹھ گھنٹے کی غیر فعال ڈیوٹی پر بٹھا دیے جاتے ہیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اسٹیبلشمنٹ نعیم احمد شیخ کے دستخط شدہ سرکاری حکم نامے کے مطابق، اس فہرست میں سب سے نمایاں نام زاہد سراج کا ہے، جو حیدرآباد کے اے-سیکشن لطیف آباد تھانے کے ایس ایچ او تھے۔ انہیں فوری طور پر معطل کرتے ہوئے سب انسپکٹر (ایس آئی) کے عہدے پر تنزلی کر دی گئی ہے، اور بی کمپنی میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

باقی نو ایس ایچ اوز میں سے چھ کا تعلق کراچی کے مختلف تھانوں سے ہے، جبکہ ایک ایک افسر قمبر شہداد کوٹ، سکھر اور شکارپور سے ہیں۔

کارروائی صرف معطلی تک محدود نہیں رہی — چھ انسپکٹرز کو سب انسپکٹر، تین سب انسپکٹرز کو اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی)، اور ایک اے ایس آئی کو ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ اقدام محکمہ پولیس کی جانب سے ایک سخت پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ بدعنوانی اور غفلت کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اگرچہ سرکاری اعلامیے میں ان "سوشل کرائمز” کی تفصیل نہیں دی گئی جن کی بنیاد پر یہ کارروائیاں ہوئیں، مگر پولیس ذرائع کے مطابق، ان افسران پر جرائم پیشہ عناصر کی پشت پناہی، بھتہ خوری میں ملوث ہونے، اور فرائض میں غفلت جیسے الزامات سامنے آئے ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پولیس کے کردار پر عوامی اعتماد متزلزل ہو چکا ہے، اور سوسائٹی میں احتساب کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ صرف شروعات ہے، اور اندرونی جانچ پڑتال کے تحت مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ہائی پروفائل معطلیاں واقعی اصلاحات کا باعث بنتی ہیں، یا محض وقتی دباؤ کے تحت کی گئی ایک نمائشی کارروائی ثابت ہوں گی

More From Author

پنجاب میں مہنگائی کا جن بے قابو

 حیدرآباد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، ایچ ڈبلیو ایس سی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے