کراچی — عالمی منڈی کی غیر یقینی صورتحال اور مقامی صنعت کو درپیش سنگین مسائل کے باوجود، پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں رواں مالی سال (2024-25) کے دوران قابل ذکر بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جو 13.4 فیصد اضافے کے ساتھ 465 ملین ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات (PBS) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک نے مالی سال 25 کے دوران 2 لاکھ 16 ہزار 350 ٹن آبی حیات برآمد کی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 16 ہزار ٹن زیادہ ہے۔ اگرچہ یہ اضافہ حوصلہ افزا ہے، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ اعداد و شمار کی یہ چمک ایک ایسی حقیقت کو چھپائے ہوئے ہے جو برسوں سے پاکستان کی ماہی گیری صنعت کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
مشکل حالات میں بھی کامیابی
پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (PFEA) کے سینئر نائب صدر، سعید فرید کا کہنا ہے کہ اس ترقی کا اصل کریڈٹ پاکستان کے ماہی گیروں اور سی فوڈ پروسیسنگ یونٹس کو جاتا ہے جنہوں نے عالمی منڈی میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کی۔
"ابھی بھی عالمی منڈی ان تجارتی جنگوں کے اثرات سے نہیں نکل سکی جو پچھلے چند سالوں میں امریکی ٹریڈ پالیسیز کی وجہ سے پیدا ہوئیں، خصوصاً چین جیسے بڑے خریدار ممالک میں طلب میں شدید کمی آئی ہے،” فرید نے کہا۔ "اس کے باوجود ہمارے برآمد کنندگان ایک مشکل مارکیٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔”
سپلائی میں کمی، پیداواری صلاحیت متاثر
اگرچہ برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، لیکن مقامی سطح پر کچا مال یعنی تازہ مچھلیوں کی فراہمی میں شدید کمی نے اس صنعت کو پریشان کر رکھا ہے۔ ملک کے بیشتر سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس اس وقت اپنی استعداد کا صرف 20 سے 25 فیصد استعمال کر رہے ہیں۔
کبھی پاکستان کی سب سے بڑی سی فوڈ برآمد کہلانے والی جھینگا (shrimp) کی پیداوار میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔ اب برآمدات کا انحصار کٹل فش، اسکویڈ، اور آکٹوپس جیسے متبادل سمندری جانوروں پر ہے، جو نہ منافع میں جھینگا کا متبادل بن سکتے ہیں اور نہ ہی مقدار میں۔
محدود مارکیٹ رسائی، بڑا مسئلہ
یورپی یونین اور امریکہ جیسی اعلیٰ قدر کی منڈیوں تک رسائی نہ ہونا برآمدات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ امریکہ کی جانب سے پاکستانی جھینگوں پر عائد پابندی اب بھی برقرار ہے، جب کہ یورپی کمیشن کے ساتھ مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔
فرید کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر سنجیدہ سفارتی اور تکنیکی اقدامات کرے تاکہ یورپ، امریکہ اور سعودی عرب جیسے بڑے خریداروں کے ساتھ باضابطہ بات چیت ہو سکے اور پاکستانی پلانٹس کی انسپیکشن مکمل کر کے برآمدات کی راہیں کھولی جا سکیں۔
"جب تک ہماری تصدیق شدہ پروسیسنگ فیکٹریوں کو دوبارہ عالمی منڈیوں تک رسائی نہیں ملتی، ہم ایک حد سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے،” انہوں نے خبردار کیا۔
اصلاحات کا اعلان — لیکن وقت کم ہے
گزشتہ سال وزیراعظم شہباز شریف نے سمندری معیشت اور ماہی گیری کے شعبے کی مکمل اصلاحات کا حکم دیا تھا، جسے صنعتی حلقوں نے خوش آئند قرار دیا تھا، لیکن ان اصلاحات پر عملی پیش رفت اب تک سست روی کا شکار ہے۔
حکومت کی مجوزہ اصلاحات میں شامل اقدامات یہ تھے:
- سندھ اور بلوچستان میں کلسٹر بیسڈ جھینگا فارمنگ
- ایران کے ساتھ مشترکہ ہچری (shrimp hatchery) منصوبے
- فش میل میں "ٹریش فِش” کے استعمال پر پابندی
- کشتیوں پر فریزنگ ٹیکنالوجی متعارف کروا کر پوسٹ ہارویسٹ نقصان میں کمی
یہ تمام منصوبے اگر مؤثر انداز میں نافذ کیے جائیں تو سی فوڈ برآمدات کو نئی زندگی دی جا سکتی ہے، لیکن وقت کی قلت اور ادارہ جاتی سستی نے ان کی راہ کھوٹی کر دی ہے۔
500 ملین ڈالر کی منزل — ابھی دور
پاکستان کی سی فوڈ انڈسٹری برسوں سے 500 ملین ڈالر کی برآمدی حد عبور کرنے کی خواہشمند رہی ہے، لیکن مسلسل رکاوٹیں اور ناکافی اصلاحات اس ہدف کو ایک خواب بنا کر رکھ چکی ہیں۔
میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO) کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ پاکستان کے سمندری ذخائر میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر وسائل کے تحفظ اور ذمہ دار ماہی گیری کے اصول نہ اپنائے گئے تو یہ صنعت دیر پا بحران کا شکار ہو جائے گی۔
"سمندر کو ہمیشہ کے لیے دینے والا خزانہ سمجھنے کی سوچ اب بدلنی ہوگی،” ایک ماہر حیاتیات نے خبردار کیا۔ "ہم صرف برآمدات کا نقصان نہیں اٹھائیں گے، بلکہ اپنی ساحلی معیشت کی بنیاد ہی کھو دیں گے۔”
اختتامی کلمات
سی فوڈ برآمدات میں حالیہ اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی آبی معیشت میں اب بھی دم ہے۔ لیکن اس ترقی کو پائیدار بنانے کے لیے صرف محنت کافی نہیں — اس کے لیے ہمیں واضح پالیسی، عالمی منڈی تک رسائی، اور سمندری وسائل کے تحفظ کے لیے سنجیدہ عزم کی ضرورت ہے۔
اگر ان تمام پہلوؤں پر بروقت کام کیا جائے تو 500 ملین ڈالر کا ہدف صرف ایک سنگِ میل نہیں، بلکہ پاکستان کی "بلو اکانومی” کے نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔