امریکی بمباری کے گہرے اثرات: ایران نے بالآخر جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا اعتراف کر لیا

تہران — ایک غیر معمولی اور اہم انکشاف میں ایران نے سرکاری طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ حالیہ امریکی فضائی حملوں سے اس کی جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے — یہ اعتراف ایرانی قیادت کے اس روایتی مؤقف میں ایک اہم موڑ کی علامت ہے، جس میں وہ اپنے جوہری پروگرام کو ہر صورت ناقابلِ تسخیر قرار دیتے آئے ہیں۔

اتوار کے روز امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے پروگرام Special Report میں میزبان بریٹ بائیر سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعتراف کیا کہ امریکی بمباری نے اہم جوہری مراکز کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں یورینیم کی افزودگی کا عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔

"ہماری تنصیبات کو بلاشبہ شدید نقصان پہنچا ہے، اور ہم اس کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں،” عراقچی نے کہا۔ بعد ازاں انہوں نے صراحت کے ساتھ کہا: "ہاں، یہ تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔”

یہ اعتراف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تقریباً ایک ماہ قبل، 22 جون کو، اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اندر تین بڑے یورینیم افزودگی مراکز پر فضائی حملے کی منظوری دی تھی — ایک ایسا اقدام جس نے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو نئی سطح تک پہنچا دیا۔

قومی وقار بمقابلہ عالمی دباؤ

اگرچہ حملوں سے پیش رفت کو دھچکا لگا ہے، لیکن ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ تہران اپنے جوہری مشن سے دستبردار ہونے والا نہیں۔

"یہ محض کوئی سیاسی منصوبہ نہیں — یہ ہمارے سائنسدانوں کی دہائیوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ ہمارے قومی وقار کی علامت ہے،” عراقچی نے کہا۔ "ہم دوبارہ تعمیر کریں گے۔ اور ہم آگے بڑھیں گے۔”

انہوں نے اصرار کیا کہ جب جوہری تنصیبات بحال ہو جائیں گی تو یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کی جائے گی۔

بیانیے میں تبدیلی

تجزیہ کاروں کے مطابق عراقچی کا یہ کھلا اعتراف ایران کے اندازِ گفتگو میں ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماضی میں ایرانی حکام نے اکثر غیر ملکی حملوں کے اثرات کو کم تر دکھانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ نقصان ممکنہ طور پر اس سے زیادہ سنگین ہے جتنا پہلے سمجھا جا رہا تھا — یہاں تک کہ جوہری منصوبے کی ٹائم لائنز بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بمباری نے ایران کو نہ صرف حکمتِ عملی بلکہ بین الاقوامی سطح پر اپنے طرزِ بیان پر بھی نظرثانی پر مجبور کیا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

اگرچہ حکومت کی جانب سے کسی باضابطہ تعمیرِ نو کا ٹائم فریم سامنے نہیں آیا، لیکن ایرانی ایٹمی توانائی ادارے کے قریب ذرائع کا کہنا ہے کہ نطنز اور دیگر دو نامعلوم مقامات پر دوبارہ تعمیر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ آیا ایران اپنے جوہری منصوبے کو وہی رفتار دوبارہ دے پائے گا — اور اگر ہاں، تو کتنے وقت میں؟

عالمی منظرنامہ

امریکہ کے لیے یہ اعتراف اس کی سخت گیر پالیسی کا ممکنہ جواز بن سکتا ہے۔ لیکن بین الاقوامی برادری کے لیے یہ لمحہ فکر ہے — ایک ایسا اشارہ کہ اشتعال، جوابی کارروائی اور سفارتی راہوں کی بندش کے اس چکر میں ہم کس طرف جا رہے ہیں؟

.

More From Author

پاکستان کی سی فوڈ برآمدات میں 13 فیصد اضافہ — مگر اصل چیلنج ابھی باقی ہیں

ٹرمپ اور پی ٹی آئی: غلط امیدیں اور سیاسی حقیقتیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے