پاکستان کا بھارت سے مطالبہ: سندھ طاس معاہدے کی مکمل بحالی یقینی بنائی جائے

اسلام آباد – 1 جولائی 2025: پاکستان نے ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت (Permanent Court of Arbitration – PCA) کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں عدالت نے واضح کیا ہے کہ اسے اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان مغربی دریاؤں پر بننے والے بھارتی ہائیڈرو پاور منصوبوں سے متعلق جاری تنازع پر فیصلہ سنانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

دفتر خارجہ نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں 27 جون کو جاری ہونے والے عدالت کے "سپلیمنٹل ایوارڈ” کو پاکستان کے مؤقف کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ بیان کے مطابق، یہ فیصلہ اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر فعال ہے اور بھارت اسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔

"یہ فیصلہ پاکستان کے اس مؤقف کو درست ثابت کرتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ تاحال مؤثر اور نافذ العمل ہے، اور بھارت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس پر یکطرفہ طور پر عملدرآمد روک دے،” دفتر خارجہ نے کہا۔

عدالت نے اپنے اختیارِ سماعت کو تسلیم کرلیا

دفتر خارجہ کے مطابق، عدالت نے واضح کیا ہے کہ اسے کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں سے متعلق پاکستان کی شکایات پر سماعت جاری رکھنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، چاہے بھارت نے معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان ہی کیوں نہ کر رکھا ہو۔

"یہ سپلیمنٹل ایوارڈ بھارت کی جانب سے معاہدے کو ‘ابےئنس’ میں ڈالنے کے اعلان کے بعد جاری کیا گیا، تاکہ قانونی کارروائی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے،” دفتر خارجہ نے کہا۔

عدالت نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وہ "بر وقت، مؤثر اور منصفانہ” طریقے سے کارروائی جاری رکھے گی، چاہے بھارت ان سماعتوں کو تسلیم نہ بھی کرے۔

پاکستان کا بھارت سے فوری عملدرآمد کا مطالبہ

اس فیصلے کے بعد، پاکستان نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل اور مخلصانہ عملدرآمد فوری طور پر بحال کرے اور کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کرے جو اس تاریخی معاہدے کو نقصان پہنچا سکتی ہو۔

"ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ معاہدے کی معمول کی فعالیت کو فوری طور پر بحال کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر پورا کرے،” دفتر خارجہ نے کہا۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے پانی کے حقوق اور علاقائی استحکام کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا۔

"یہ ایک اہم قانونی توثیق ہے کہ معاہدہ بدستور مؤثر ہے۔ یہ پاکستان کے مؤقف کو مضبوط بناتا ہے اور اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ مسائل کا حل صرف قانونی اور پرامن طریقے سے ہی ممکن ہے،” اسحاق ڈار نے کہا۔

بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور

دفتر خارجہ نے اس موقع پر زور دیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان معنی خیز اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز ہونا چاہیے — نہ صرف پانی کے مسئلے پر بلکہ دیگر تمام حل طلب معاملات پر بھی۔

"پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تنازعات — جن میں جموں و کشمیر، پانی، تجارت اور دہشت گردی جیسے مسائل شامل ہیں — پر بامعنی بات چیت کے لیے تیار ہے،” دفتر خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ مؤقف کی توثیق کرتے ہوئے کہا۔

بھارت کی جانب سے ردِعمل

دوسری جانب، بھارت نے اس فیصلے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق، بھارت کی وزارت خارجہ نے "سپلیمنٹل ایوارڈ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا” اور موقف اختیار کیا کہ وہ اس معاملے میں PCA کی اتھارٹی کو تسلیم نہیں کرتا۔ تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے جاری کارروائیاں جنوبی ایشیا میں پانی کے مشترکہ استعمال کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں — بالخصوص ایسے وقت میں جب خطہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور آبی قلت جیسے بڑے چیلنجز سے دوچار ہے

More From Author

عالمی ثالثی عدالت میں مقدمہ: پاکستان کا بھارت پر ’آبی دہشتگردی‘ کا سنگین الزام

میئر کراچی کا وزیر بلدیات سعید غنی کو خط، سڑکوں کی خراب حالت پر فوری کارروائی کا مطالبہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے