پاکستان پر 19 فیصد امریکی ٹیکس، ٹرمپ کا عالمی تجارتی نظام پر نیا وار

واشنگٹن – 1 اگست 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے دنیا بھر کے درجنوں ممالک پر بھاری درآمدی محصولات عائد کر دیے ہیں، جن میں پاکستان کے لیے 19 فیصد ٹیکس بھی شامل ہے۔

اگرچہ یہ شرح اب بھی خاصی بلند ہے، تاہم یہ پاکستان کے لیے ایک ریلیف کے طور پر دیکھی جا رہی ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستانی برآمدات پر 29 فیصد ٹیکس نافذ تھا۔ نئی شرح کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا جب واشنگٹن میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک دو طرفہ تجارتی معاہدہ طے پایا ہے، جس میں پاکستان کے تیل کے ذخائر کی مشترکہ ترقی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ’ٹرتھ سوشل‘ پر بیان دیتے ہوئے کہا:
"ہم نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ مکمل کیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک پاکستان کے بڑے پیمانے پر موجود تیل کے ذخائر کو مشترکہ طور پر ترقی دیں گے۔”

یہ اعلان پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور صدر ٹرمپ کی ایک اہم ملاقات کے بعد سامنے آیا، جسے تجارتی تناؤ کو کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی، جنہوں نے اس معاہدے کو "ایک حقیقی جیت دونوں ممالک کے لیے” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں پاکستان مزید سخت پابندیوں سے بچ گیا ہے۔

پاکستان کے لیے 19 فیصد ٹیرف کی شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ بھارت پر 25 فیصد، بنگلہ دیش اور ویتنام پر 20 فیصد، جبکہ انڈونیشیا پر بھی 19 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ عراق کو سب سے زیادہ یعنی 35 فیصد ٹیرف کا سامنا ہے، جبکہ برازیل پر 50 فیصد اور کینیڈا پر 35 فیصد محصولات عائد کیے گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے قبل ازیں یکم اگست کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، جس کے تحت ان ممالک کو یا تو امریکہ کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کرنے تھے یا پھر سخت درآمدی ٹیکس برداشت کرنے تھے — جو بعض صورتوں میں 41 فیصد تک بھی جا پہنچے۔ بنیادی ٹیرف کی شرح 10 فیصد مقرر تھی، مگر وہ ممالک جو امریکہ کے اقتصادی یا سیکیورٹی مفادات سے ہم آہنگ نہیں سمجھے گئے، انہیں زیادہ سخت سزائیں دی گئیں۔

ٹرمپ کے احکامات میں کئی ممالک پر تنقید کی گئی کہ وہ تجارتی توازن قائم کرنے میں ناکام رہے یا امریکہ کے ساتھ ضروری اسٹریٹجک تعاون نہیں کر رہے۔ حکم نامے میں کہا گیا:
"اگرچہ کچھ ممالک نے مذاکرات کیے، لیکن ان کی پیشکشیں امریکہ کے لیے قابل قبول نہیں تھیں۔”

اس بار مالیاتی منڈیوں نے نسبتاً پرسکون ردعمل دیا، جو اس سے قبل اپریل میں ٹرمپ کے پہلے ٹیرف اعلان پر شدید مندی کا شکار ہو چکی تھیں۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس اور امریکی فیوچر مارکیٹس میں جمعہ کی صبح معمولی کمی دیکھنے میں آئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار پہلے سے خطرات کا اندازہ لگا چکے تھے۔

نئے تجارتی نظام میں ’رولز آف اوریجن‘ یعنی مصنوعات کی اصل کے اصولوں کو بھی سخت کر دیا گیا ہے، جو آئندہ مزید بلند محصولات کا سبب بن سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید دو طرفہ تجارتی معاہدے بھی منظرِ عام پر آئیں گے، جن کا مقصد تجارتی خسارے کو کم کرنا اور ملکی صنعتوں کو فروغ دینا ہے۔

کینیڈا کے معاملے پر ٹرمپ نے علیحدہ حکم نامہ جاری کرتے ہوئے وہاں سے آنے والی مخصوص اشیاء پر ٹیکس کو 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام کینیڈا کی جانب سے فینٹانائل جیسے منشیات کی روک تھام میں ناکامی پر اٹھایا گیا ہے۔ ٹرمپ نے کینیڈین قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "کینیڈا بہت ناقص قیادت کے تحت ہے۔”

ادھر میکسیکو کو وقتی ریلیف دیتے ہوئے اس پر لاگو 30 فیصد ٹیرف کو 90 دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے قبل ٹرمپ اور نئی میکسیکن صدر کلاؤڈیا شینباؤم کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی تھی۔

بھارت کو سخت تر نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی حکومت کی جانب سے بھارتی زرعی مارکیٹ تک رسائی کے مطالبے اور روسی تیل کی خریداری پر عدم اطمینان کے باعث، بھارت پر 25 فیصد درآمدی ٹیکس عائد کر دیا گیا۔ اس فیصلے پر بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردعمل دیا جبکہ بھارتی روپے کی قدر میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔

اگرچہ ان نئے تجارتی اقدامات کے طویل المدتی اثرات کا اندازہ لگانا ابھی باقی ہے، مگر ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ امریکہ میں صارفین کو مہنگائی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جون میں گھریلو اشیاء، کپڑوں اور تفریحی مصنوعات کی قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے — جو اس بات کی علامت ہے کہ تجارتی جنگ کے اثرات جلد ہی عام امریکی شہری کی جیب پر بھی محسوس ہونے لگیں گے۔

More From Author

کراچی میں لیاری سے آئے جوڑے اور ان کے کمسن بیٹے کا بہیمانہ قتل — محبت کی شادی کا خونی انجام

اسلام آباد میں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس، ’’اسکرپٹڈ سیاست‘‘ پر شدید تنقید

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے