امریکی ناظم الامور کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے پاکستان کی معدنی دولت سے فائدہ اٹھانے کا یہی موزوں وقت ہے
پاکستان نے امریکی کمپنیوں کو اپنے معدنی وسائل سے بھرپور علاقوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے، اور خاص طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس اور مشترکہ منصوبوں پر زور دیا ہے — ایک ایسا شعبہ جسے ملک کی اقتصادی ترقی میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
اسلام آباد میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (OGDCL) کے ہیڈ آفس سے منعقدہ اعلیٰ سطحی ویبینار "پاکستان کے معدنی شعبے میں مواقع – پوشیدہ دولت کی تلاش” سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نیتھلی بیکر نے کہا:
"ریکوڈک میں دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبے اور سونے کے ذخائر موجود ہیں، اور حکومت اقتصادی اصلاحات کے لیے پرعزم ہے — یہ امریکی سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں داخل ہونے اور شراکت داری کا بہترین وقت ہے۔”
یہ ویبینار وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) اور امریکی سفارت خانے کے باہمی اشتراک سے منعقد ہوا، جس میں پاکستانی وزارتوں کے اعلیٰ حکام، معروف توانائی و معدنیاتی کمپنیوں کے سربراہان، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے نمائندوں، اور امریکی توانائی ماہرین نے شرکت کی۔ کئی امریکی کاروباری نمائندے آن لائن شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک نے پاکستان کے وسیع مگر کم استعمال شدہ معدنی وسائل کو اجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا:
"سونا، تانبا، قیمتی دھاتیں اور وہ معدنیات جو دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کے لیے ناگزیر ہیں — پاکستان ان تمام میں مالا مال ہے اور عالمی توانائی کی منتقلی میں مرکزی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔”
انہوں نے بلوچستان کے ضلع چاغی اور خیبر پختونخوا کے وزیرستان میں حالیہ معدنی دریافتوں اور ریکوڈک منصوبے کی بین الاقوامی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ ساتھ ہی اُنہوں نے سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور رکاوٹیں ختم کرنے کے حکومتی عزم پر بھی زور دیا۔
"ہم معدنی ترقی کو معیشت کی مضبوطی اور موسمیاتی استحکام کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی براہ راست نگرانی میں، حکومت پاکستان اس شعبے کو کھولنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔” وزیر نے مزید کہا۔
انہوں نے اس سال منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 (PMIF25) کا بھی ذکر کیا، جس میں دنیا بھر سے 5,000 سے زائد شرکاء نے شرکت کی۔
"PMIF25 ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس نے پاکستان کو عالمی معدنیاتی معیشت میں ایک سنجیدہ کھلاڑی کے طور پر پیش کیا۔”
نیتھلی بیکر نے امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کا اعادہ کرتے ہوئے کہا:
"پاکستان کا معدنی شعبہ بے پناہ مواقع سے بھرپور ہے۔ ہمارا مقصد ایسے بامعنی اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کو فروغ دینا ہے جو روزگار پیدا کریں اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھائیں۔”
انہوں نے معدنی شعبے میں حالیہ پالیسی اقدامات کو سراہا، خصوصاً نیشنل منرلز ہارمونسائزیشن فریم ورک کی تیاری، جو سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور وفاقی و صوبائی قوانین کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جغرافیائی ڈیٹا کو ڈیجیٹلائز کرنے اور جیولوجیکل سروے آف پاکستان کو اپ گریڈ کرنے کے اقدامات کو بھی اہم قرار دیا، جو سرمایہ کاروں کے لیے شفافیت اور معلومات تک رسائی کو بہتر بنائیں گے۔
ویبینار کے دوران امریکی سرمایہ کاروں کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں پاکستانی حکام نے مکمل تعاون اور رہنمائی کی یقین دہانی کرائی۔
اختتامی کلمات میں نیتھلی بیکر نے پاکستان کی معاشی ترقی اور باہمی اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے لیے امریکی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا:
"ہم پاکستان کی صلاحیت پر یقین رکھتے ہیں، اور اس کے معدنی شعبے میں شراکت داری کو پائیدار، جامع ترقی کے لیے ایک سنہری موقع سمجھتے ہیں۔”